BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 December, 2008, 00:44 GMT 05:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رقم کی ادائیگی تیز کرنے کی ہدایت

بینظیر بھٹو
بینظیر بھٹو سکیم کے لیے ابتدائی طور پر چونتیس ارب روپے مختص کیے گئے ہیں
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں میں رقم کی تقسیم کو یکم اکتوبر دو ہزار آٹھ سے شروع کرنے کی منظوری دیتے ہوئے ادائیگیوں کا عمل تیز کرنے کی ہدایات کی ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلز کے مطابق منگل کے روز وزیر اعظم ہاؤس میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں مشیر خزانہ شوکت ترین، بینظیر انکم سپورٹ کی چیئر پرسن فرزانہ راجہ اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا
مقصد غریب لوگوں کو رقم خیرات میں دینا نہیں بلکہ ان کے لیے روز گار کے مواقع، مائیکرو فنانس اور فنی تربیت جیسے منصوبے شروع کیے جائیں گے تاکہ غریب لوگوں کو معاشی طور پر مضبوط کیا جائے۔

انھوں نے پارلیمان کے تمام اراکین کو ہدایات دی کہ مستحق افراد میں تقسیم کیے گئے تمام درخواست فارموں کی واپسی ہر صورت میں اکتیس جنوری دو ہزار نو تک یقینی بنائیں۔

انھوں نے کہا کہ منصوبے کو سیاست سے بالاتر رکھتے ہوئے ہر ممکن طریقہ سے شفاف بنایا جائے اور امداری رقم صرف مستحق افراد کو ہی دی جائے۔

یاد رہے کہ سالانہ چونتیس ارب روپے مالیت کے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا علامتی آغاز تئیس دسمبر سے کیا گیا تھا جبکہ باقاعدہ آغاز جنوری کے پہلے ہفتہ سے شروع ہوناہے جس کے تحت پینتس لاکھ سے زائد خاندانوں میں کو ہر دو ماہ کے بعد دو ہزار روپے ڈاکخانوں کے ذریعے تقسیم کرنے کا عمل شروع ہو گا۔ جبکہ رقم خاندان کی سربراہ خاتوں کو ہی دی جائے گی۔

اجلاس میں شریک بینظیر انکم سپورٹ پرگرام کی چیر پرسن فرزانے راجہ نے بتایا کہ وزیر اعظم ریلیف پیکج کے تحت قبائلی علاقے فاٹا میں فوجی آپریشن کے باعث نقل مکانی کرنے والے لوگوں کی مالی امداد شروع کر دی گئی ہے جبکہ صوبہ بلوچستان کے زلزلہ سے متاثر آٹھ ہزار خاندانوں کی مالی کفالت بھی جلد شروع ہو جائے گی۔

واضع رہے کہ حکومت نے پارلیمان میں نمائندگی رکھنے والی تمام سیاسی جماعتوں کے اراکین اور سینیٹرز کے ذریعے مستحق خاندانوں میں پیتنیس لاکھ سے زائد فارم تقسیم کیے ہیں۔ جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پرگرام کی چیر پرسن فرزانہ راجہ نے چند روز قبل میڈیا کو بتایا تھا کہ منصوبہ جولائی دو ہزار آٹھ سے شروع ہونا تھا تاہم غریب افراد کا ریکارڈ موجود نہ ہونے کی بنا پر اگلے سال جنوری سے شروع ہو گا۔

پاکستان میں غربت
غربت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے
ماں کا دن
غربت ایک ماں کے تین بچے کھا گئی
پروین بی بی’بچے بھوکے ہیں‘
’حکومت غریب مار کر غربت ختم کر رہی ہے‘
پاکستان غربت فائل فوٹوپاکستانی معیشت
23 برس میں غربت اورجہالت کاخاتمہ
 فائل فوٹوحکومتی دعویٰ
’پاکستان میں غربت دس فیصد کم ہو گئی‘
اسی بارے میں
نام میں سب رکھا ہے
16 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد