غربت ایک ماں کے تین بچے کھا گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مائی سوہنی کو ماؤں کے عالمی دن کا تو کچھ علم نہیں مگر وہ کہتی ہیں کہ تنہائی میں ان کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں جب انہیں اپنے وہ تین بچے یاد آتے ہیں جو انہوں نے غربت کی وجہ سے پیدا ہوتے ہی ایک بےاولاد میاں بیوی کے حوالے کر دیے تھے۔ چھیالیس سالہ مائی سوہنی کو اپنی ستائیس سالہ شادی شدہ زندگی میں چودہ بچوں کی ماں بننا پڑا۔ان کے شوہر رکشا ڈرائیور تھے مگر بعد میں وہ ہیروئن کے نشے کے عادی بن گئے۔م ائی سوہنی شدید غربت میں بچوں سمیت تنہا رہ گئیں۔ مائی سوہنی کا کہنا ہے کہ جب وہ حاملہ ہوتیں تھیں اور بچے کی پیدائش کا وقت قریب آتا تھا تب وہ ایک بےاولاد میاں بیوی کو تلاش کرلیتی تھیں۔مائی سوہنی کے مطابق وہ ان سے کوئی معاوضے کی رقم تو طلب نہ کرتی تھیں مگر ان سے صرف علاج اور ہسپتال کاخرچہ مانگتی تھیں۔ ’بچہ پیدا ہونے کے بعد میرے پاس بمشکل ایک دن گزارتا تھا۔ مجھے اپنی ممتا یا بچے اور میری زندگی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا تھا۔ زندگیاں زیادہ عزیز تھیں اس لیے میں روتے ہوئے اپنے بچے دوسروں کےحوالے کرتی رہی۔‘ مائی سوہنی کا کہنا تھا کہ وہ گھروں میں کام کرتی رہیں اور چار بچے انہوں نے خود اپنے پاس رکھے، تین دوسروں کو دے دیے جبکہ باقی سات مناسب خوراک نہ ملنے کی وجہ سے بچپن میں ہی فوت ہوگئے۔ مائی سوہنی فیملی پلاننگ کو سوات کے مولوی کی طرح گناہ کبیرہ سمجھتی رہیں۔ان کی نظر میں جو عورت بچوں میں وقفہ کرے گی اس کی نماز جنازہ بھی جائز نہیں۔ مائی سوہنی نے اپنی بیٹھک والے کمرے میں رازداری سے بتایا کہ جب ان کے شوہر نے ان کے پاس آنا چھوڑ دیا تب بچے بند ہوگئے۔ سمجھ گئے نا ، مائی سوہنی نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔
مائی کا کہنا ہے کہ اب انہیں اپنے وہ تین بچے زیادہ یاد آتے ہیں جو انہوں نے غربت کی وجہ سے اپنے آپ سے الگ کیے تھے۔ان میں دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہے۔ مائی سوہنی اپنی جوانی اور حسن کو اچھے لفظوں میں یاد کرتی ہیں۔انہیں ایک نشئی کی خوش شکل بیوی ہونے کی وجہ سے کئی مردوں کی طرف سے دوستیاں رکھنے کی فرمائشیں بھی ہوئیں مگر مائی سوہنی کے مطابق عزت ایک مرتبہ لٹ جائے تو زندگی بھر واپس نہیں ملتی۔ مائی سوہنی کا کہنا تھا کہ غربت کے دن تھے، وہ بدل گئے اب میں کچھ سانس لے سکتی ہوں مگر غربت کی وجہ سے اگر میں نے جسم فروشی شروع کردی ہوتی تو وہ عزت اور مقام واپس کبھی نہ ملتا۔ مائی سوہنی کے مطابق مردوں کی نظروں سے بچنے لے لیے انہوں نے کبھی ہار سنگہار نہیں کیا ۔وہ نئے کپڑے بدلنے کے بعد اپنے رشتے داروں کے سوا کہیں نہیں جاتی تھیں۔ مائی سوہنی نے اپنے نشئی شوہر سے طلاق حاصل کر لی ہے اور ان کی نشے کی عادت چھڑانے کے لیے کونسلر بننے کے بعد انہیں دس ماہ جیل میں بند بھی کروایا مگر وہ اپنی عادت بدل نہ سکا۔ مائی سوہنی کو کسی معـجزے کا انتظار تو نہیں کہ وہ تین بچے ان کو واپس مل جائیں مگر وہ کہتی ہیں انہیں بچوں کی یاد آتی رہتی ہے اور تنہائی میں جب کوئی نہیں ہوتا میں ان بچوں کے لیے روتی رہتی ہوں اور ان کی دراز عمری کے لیے دعائیں کرتی رہتی ہوں جو میرے بچے ہوتے ہوئے بھی میرے نہیں ہیں۔ | اسی بارے میں ’خواتین آج بھی انصاف کی متلاشی‘08 March, 2008 | پاکستان ماں کا خط، سپریم کورٹ کا حکم06 July, 2006 | پاکستان ماں کی لاش کے ساتھ اکیس سال05 October, 2005 | انڈیا ’وہ خاندان کیسے جی سکتا ہے‘06 May, 2007 | انڈیا لاپتہ افراد کے لیے مظاہرے14 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||