BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 October, 2005, 01:48 GMT 06:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ماں کی لاش کے ساتھ اکیس سال

پروفیسر غفور نے ڈاکٹروں کی مدد سے ماں کے مردہ جسم میں کمیکلز لگا کر محفوظ کر لیا تھا ۔
ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے یہ تو سنتے آئے ہیں لیکن ماں سے ایسی محبت کہ ماں کی لاش کو ہی نہ دفن کیا جائے یہ پہلی بار سنا ہے۔

ہندوستان کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں انگریزي کے ایک سبکدوش پروفیسر نے اپنی ماں کی لاش کو اکیس برس تک اپنے گھر میں رکھا۔ اور لاش اس وقت دفن کی گئی جب خود بیٹے کا بھی انتقال ہوگیا ۔

69 سالہ سید عبدالغفور کی گزشتہ ہفتے کے روز موت ہو ئی انہیں اپنی والدہ رحمت بی سے اس قدر محبت تھی کہ 1985 میں انکے انتقال کے بعد انہوں نے انہیں سپرد خاک نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے ڈاکٹروں کی مدد سے انکے مردہ جسم میں کمیکلز لگا کر محفوظ کر لیا ۔

در اصل عبدالغفور کی اس انوکھی داستان کی شروعات تامل ناڈو کے تنجاور ضلع کے پونڈی گاؤں سے ہوئی جہاں پروفیسر غفور 1980 کے عشرے میں انگریزی کے پروفیسر کے طور پر کا م کرتے تھے۔ جب انکی والدہ کا انتقال ہوا وہ انکی لاش کو آندھر پردیش میں اپنے آبائی گاؤں سداوتا لے آئے۔

انہوں نے اپنی ماں کی لاش کو ایک شیشے کے تابوت میں ممی بنا کر رکھ لیا۔ انکے رشتہ داروں اور پڑوسیوں نے اس کی سخت مخالفت کی۔ انکے بڑے بھائی نے ماں کی لاش کو دفن کرنے کے لئے عبدالغفور کو آمادہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے ۔

مقامی لوگوں نے گھر میں لاش رکھنے کے خلاف کئی بار احتجاج بھی کیا ۔ مقامی افسر پربھاکر ریڈی نے بتایا کہ احتجاج کے باوجود " غفور اس بات پر مصر تھے کہ انکی ماں کی لاش انکی آخری سانس تک انکے ساتھ ہی رہے گی ۔

انکے بھتیجے سید نور نے بتایا کہ " وہ لاش کے بارے میں اس قدر جذباتی ہو چکے تھے کہ وہ کسی کو شیشے کے تابوت کی طرف دیکھنے بھی نہیں دیتے تھے ۔

گزشتہ سنیچر کے روز ایک طویل علالت کے بعد پروفیسر کا انتقال ہو گیا اور گھر کے لوگوں نے اگلے دن مقامی مسجد کے احاطے میں دو الگ الگ قبروں میں ماں اور بیٹے کو دفن کر دیا۔

اپنی ماں سے اس قدر پروفیسر غفور قریب تھے کہ مرنے کے بعد بھی وہ اپنی ماں کی لاش سے " صلاح و مشورہ کیا کرتے تھے۔ اس دیوانگی سے پہلے پروفیسر بڑے احترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔

پربھاکر ریڈی بتاتے ہیں کہ غفور نے انگریزي ادب میں دو بار " ایم اے " کیا تھا اور لٹریچر میں ہی بعد میں انہوں نے " پی ایچ ڈی " بھی کی تھی ۔ انہوں نے بعض ڈگریاں کیمبرج یونیورسٹی سے بھی حاصل کی تھی۔

پروفیسر غفور نے 1987 میں رضاکارنہ طور پر ریٹائرمنٹ لے لیا تھا۔ وہ ایک انگریزي میں خصوصی ڈکشنری تیا ر کر رہے تھے جس کے بارے میں خود انکا کہنا تھا کہ " الفاظ کی دنیا میں یہ ہندوستان کا غیر معمولی تحفہ ہوگا۔

انکے بھتیجے کا کہنا ہے کہ پروفیسر اپنی زندگی کے اخری دنوں میں کافی مایوسی کا شکار تھے اور انہی حالات میں انکی موت ہوئی " 2004 میں وہ ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے عہدے کے لئے انٹرویو دینے گئے تھے جب وہ وہاں سے واپس لوٹے تو وہ یہی کہتے تھے کہ آج کی دنیا میں صلاحیت کی نہیں پیسے کی قدر ہوتی ہے۔ "

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد