BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 06 October, 2003, 17:48 GMT 21:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قسمت کے ساتھ ساتھ

بھارت کی مبینہ گولہ باری سے زخمی ہونے والی ایک بچی۔
بھارت کی مبینہ گولہ باری سے زخمی ہونے والی ایک بچی کو ہسپتال میں امداد دی جارہی ہے۔

سات سالہ معصوم سی مبین کوثر جموں کی جانی پور کالونی میں ایک کمرے والے سرکاری مکان میں پڑھ رہی ہے جس میں دوسری جانب تھکی ہاری دکھائی دینے والی اس کی ماں شہناز پروین کسی گہری سوچ میں ہے۔

تینتیس سالہ شہناز پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حریرانوالہ باغ کی رہنے والی تھی۔

نو برس قبل اپنے سسرال میں جھگڑے کی وجہ سے اس نے جہلم ندی میں چھلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی لیکن قسمت نے اسے سرحد کے پار بھارتی علاقے میں پہنچا دیا جہاں شہناز کو غیر قانونی طریقے سے سرحد پار کرنے کی جرم میں عدالت نے پندرہ مہینے کی سزا دے دی۔

اس کو پونچھ کی جیل میں رکھا گیا۔ شہناز کے مطابق ایک پولیس اہلکار محمد دین نے اس کی عصمت دری کی جس کے بعد شہناز کو وہاں سے جمّوں کی جیل منتقل کردیا گیا جہاں جیل کے خواتین ونگ میں اس کی بیٹی مبین پیدا ہوئی۔

اس کی عصمت دری کے ملزم پولیس اہلکار محمد دین کو پولیس کی نوکری سے معطل کردیا گیا اور اس کے خلاف مقدمہ عدالت میں چل رہا ہے۔

ادھر شہناز کی سزا پوری ہونے پر اس کو واپس پاکستان بھیجنے کے لئے سرحد پر لے جایا گیا لیکن پاکستانی حکام نے اس کی بیٹی مبین کو جو پیدائشی طور پر بھارتی شہری تھی، لینے سے انکار کردیا۔ شہناز ایک بار پھر سے جیل جاپہنچی۔

گزشتہ برس اگست میں عدالت نے اس کی رہائی کا حکم دیا اور حکومت کو ہدایت کی کہ اسے رہنے کے لئے مکان دیا جائے اس کی بیٹی کے نام پر تین لاکھ روپے بینک میں جمع کروائے جائیں جن کو وہ بیٹی اٹھارہ سال کی عمر کے بعد بینک سے نکال سکے گی۔

لیکن شہناز اب خوش نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ہر صورت میں پاکستان واپس جانا چاہتی ہے

کیونکہ اس کے سب ہی رشتہ دار پاکستان میں ہیں اور وہ یہاں اکیلی ہے اور رشتہ دار اسے قبول کرنے کو تیار ہیں۔

یہ پوچھنے پر کہ گزارہ کیسا چل رہا ہے شہناز نے کہا ’کچھ پیسے مل جاتے ہیں پہلے کام بھی کرلیتی تھی۔۔۔‘

شہناز نے پاکستان کی حکومت سے ایک بار پھر رابطہ کیا ہے تاکہ اسے بیٹی سمیت واپس لیا جائے۔ ایک برس قبل اس کا بھارتی حکومت سے مطالبہ تھا کہ اسے بیٹی کے ساتھ ہی بھارت میں بسایا جائے مگر ان اس کاکہنا ہے کہ اس نے بیٹی کو بھی پاکستان چلنے کے لئے رضامند کرلیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد