BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 May, 2007, 08:39 GMT 13:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’وہ خاندان کیسے جی سکتا ہے‘

شمیمہ رضا
لوگوں نے خوف کی وجہ سے ہمارا سماجی بائیکاٹ کر دیا:شمیمہ رضا
احمد آباد پولیس کے ہاتھوں ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والی عشرت جہاں کی والدہ شمیمہ رضا شیخ زندگی کی کڑوی سچائیوں کے ساتھ جینے پر مجبور ہیں۔

ایک بے رنگ و روغن مکان میں رہائش پذیر شمیمہ کا کہنا ہے’میں ایک زندہ لاش ہوں۔ جس کی مقتول بیٹی پر دہشت گردی کا لیبل لگا دیا جائے اور جس کی چار جوان بیٹیاں گھر بیٹھی ہوں وہ عورت کیسے جی سکتی ہے‘۔

ان کا کہنا تھا’اب تو بیٹیوں کے رشتے بھی نہیں آتے۔رات بھر نیند نہیں آتی سینے پر ایک بوجھ ہے۔ اپنی خوبصورت معصوم بچیوں کی طرف دیکھتی ہوں تو دل مسوس کر رہ جاتی ہوں۔ یہ کس خطا کی سزا ہمیں ملی‘۔

عشرت کے اہلِ خانہ کے پاس مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ان کی ہلاکت کی سی بی آئی تفتیش کے لیے بھی رقم نہیں اور وہ مالی مدد کے منتظر ہیں۔

انیس سالہ عشرت جہاں کو احمدآباد پولیس نے اسلامی شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کی رکن قرار دے کر ہلاک کر دیا تھا اور ان پرگجرات کے وزیرِاعلٰی نریندر مودی، پروین توگڑیا اور بی جے پی رہنما لال کرشن اڈوانی کے قتل کا منصوبہ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔

عشرت ممبئی کے خالصہ کالج میں بی ایس سی (سائنس ) کے دوسرے سال کی طالبہ تھیں۔ ان کے والد عمارتیں بنانے کا ٹھیکہ لیتے تھے لیکن اچانک انہیں کاروبار میں آٹھ لاکھ روپے کا خسارہ ہوا اور اس صدمہ نے ان کی جان لے لی۔

والد کے انتقال کے بعد عشرت نےگھر میں بچوں کو ٹیوشن پڑھانا شروع کی اور ساتھ ہی کالج میں داخلہ لے لیا۔

عشرت جہاں کے اہلِ خانہ

عشرت کی بہن مسرت جہاں کے مطابق عشرت نے پونے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص جاوید کے ساتھ کام کرنا بھی شروع کر دیا۔ ان کے مطابق جاوید کے پاس صابن اور پرفیوم کی ایجنسی تھی اور عشرت کو اس کا حساب کتاب رکھنا تھا۔اس کے لیے دو مرتبہ وہ باہر بھی جا چکی تھیں۔

مسرت نے اس بات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’آپا نے کہا کہ وہ کام کے سلسلہ میں باہر جا رہی ہیں اور ایک روز میں واپس آجائیں گی۔ انہوں نے ناسک پہنچ کر فون کیا کہ وہ خیریت سے ہیں لیکن پھر دوسرے دن ان کا فون نہیں آیا۔ اور پھر ہمیں ٹی وی چینل کے ذریعہ پتہ چلا کہ آپا کو پولیس نے تصادم میں ہلاک کر دیا ہے اور ان پر دہشت گرد ہونے کا لیبل بھی لگا ڈالا‘۔

عشرت کے بےقصور ہونے کا دعویدار ہر وہ شخص تھا جو انہیں قریب سے جانتا تھا اور سبھی نے اس مبینہ قتل کی تحقیقات کے لیے عشرت کےگھر والوں کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا لیکن پھر لوگ رفتہ رفتہ ان سے دور ہونے لگے۔

عشرت کی والدہ شمیمہ کے مطابق’پہلے میرے گھر میں لوگ اپنے چھوٹے بچوں کو ٹیوشن کے لیے بھیجتے تھے لیکن پھر انہوں نے اپنے بچوں کو بھیجنا بند کر دیا۔انہیں پولیس کا خوف ستاتا ہے کہ کہیں پولیس ان پر بھی کوئی الزام عائد نہ کر دے۔ گھر میں روزی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا اس لیے میری بچیوں نے تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔ جب پیٹ بھر کھانے کے لیے کچھ نہ ہو تو پڑھائی کے لیے پیسے کہاں سے آتے؟ ایک طرح سے لوگوں نے خوف کی وجہ سے ہمارا سماجی بائیکاٹ کر دیا تھا۔ اس دوران ہم نے تین گھر بدلے۔ آج کرائے کے مکان میں عزت اور سر چھپائے بیٹھے ہیں‘۔

عشرت ممبئی کے خالصہ کالج میں بی ایس سی کی طالبہ تھیں۔

عشرت کی چھوٹی بہن مسرت اب ایک ٹائپنگ سینٹر میں کام کرتی ہیں۔ انہیں تعلیم مکمل نہ کرنے کا بہت ملال ہے لیکن ساتھ ہی اپنی بہن پر لگے الزام کو غلط ثابت کرنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا’وقت اور حالات نے مجھے بےخوف بنا دیا ہے اب کسی وقت فاقہ بھی زندگی میں آگے بڑھنے اور لڑنے کی قوت کو کمزور نہیں کرتا۔ مجھے سماج سے کوئی شکوہ نہیں ہے کیونکہ وہ بھی پولیس کے خوف کی وجہ سے مجبور ہیں‘۔

عشرت جہاں کے بھائی کو بھی اپنی بہن پر لگے اس الزام کا خمیازہ نوکری سے برخاستگی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ انہوں نے کہا’مجھے ایک کمپنی میں دوست کی مدد سے کام مل گیا لیکن صرف پندرہ دنوں بعد ہی مجھے کام سے یہ کہہ کر نکال دیا گیا کہ وہ ایسے خاندان کے کسی بھی فرد کو ملازمت نہیں دے سکتے جن کے دامن پر دہشت گرد ہونے کا لیبل لگا ہو پھر چاہے اس میں سچائی نہ ہو‘۔

اقبال اس وقت اپنے ہی ایک دوست کے سائبر کیفے میں کام کر رہے ہیں،’میں پڑھنا چاہتا ہوں یا کم سے کم ہارڈو ئیر ڈگری کورس کر لوں تاکہ کسی بڑی کمپنی میں ملازمت ملے اور اتنا کما سکوں کہ بہنوں اور ماں کا پیٹ بھر سکوں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد