BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 May, 2007, 11:36 GMT 16:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گجرات: پولیس افسروں کا ریمانڈ

 عشرت جہاں
جعلی مقابلے کے بعد پولیس افسران کا کہنا تھا عشرت جہاں اور اس کے ساتھی اسلامی شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ سے تعلق رکھتے تھے
گجرات کے جعلی پولیس مقابلوں یا انکاؤٹرز کے اہم ملزمان کی پولیس ریمانڈ تین دن کے لیے مزید بڑھا دی گئی ہے۔ سنیچر کو اس معاملے ملوث تینوں پولیس افسروں کو کڑی سکیورٹی میں میٹروپولیٹن کورٹ لایا گیا۔

ملزمان، پولیس افسر ڈی جی ونزاراہ، راج کمار پنڈیہ اور دنیش کمار کو چوبیس اپریل کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر سہراب الدین کو جعلی پولیس مقابلے یا فیک انکاؤنٹر میں مارنے اور پھر ان کی بیوی کو قتل کرنے کا الزام ہے۔

اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی ایجنسی سی آئی ڈی نے عدالت سے ان افسران کا نارکوانالیسس کرانے کی بھی درخواست کی ہے۔

سی آئی ڈی نے عدالت سے کہا تھا کہ فرضی تصادم میں مارے گئے سہراب الدین کی بیوی کوثر بی کی ہلاکت کے بارے میں تفصیلی تحقیقات کے لیے ان تینوں پولیس افسران کو کم سے کم سات دن کے لیے مزید پولیس تحویل میں دیا جائے لیکن عدالت نے اس کے لیے صرف تین دن کا وقت دیا ہے۔

پیشی کے وقت عدالت کے احاطے میں لوگوں کی بڑی تعداد جمع تھی اور ایک بار پھر ڈی جی ونزاراہ کے حق میں نعرہ بازی کی گئی۔ کورٹ میں ونزاراہ کے گھر کے لوگ بھی موجود تھے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت آٹھ مئی کو ہوگی۔

خاندان
عشرت جہاں کی بیوہ والدہ شمیمہ اپنی چار بیٹوں اور دو بیٹوں کے ساتھ

اطلاعات کے مطابق سی آئي ڈی نارکوانالیسس پولیس افسران کی رضامندی سے کرانے کے حق میں تھی لیکن تینوں پولیس افسروں نے اس ٹیسٹ سے روک دیا تھا جس کے بعد عدالت سے ریمانڈ میں توسیع کی درخواست کی گئی ہے۔

سی آئی ڈي کو اس معاملے کی حتمی رپورٹ پندرہ مئی کو سپریم کورٹ کو پیش کرنی ہے۔ اگر سپریم کورٹ سی آئی ڈی کی رپورٹ سے مطمئن نہ ہوئی تو یہ معاملہ مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔

سہراب الدین کے اہل خانہ اور مرکزی حکومت پہلے ہی سپریم کورٹ سے اپیل کر چکے ہیں دریں اثنا ایک اور پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والی عشرت جہاں کی والدہ نے کہا ہے کہ وہ بھی اپنی بیٹی کی ہلاکت کے تحقیقات سی بی آئی سے کرانے کے لیے ممبئی ہائی کورٹ سے درخواست کر رہی ہیں۔

اسی دوران سپریم کورٹ کے دو وکلاء نتیہ راما کرشنن اور بی جی ورگز نے ریاست گجرات میں ہونے والے اکیس پولیس مقابلوں کی تحقیقات کے لیے مفاد عامہ کی اپیل دائر کی ہے جس میں وہ عشرت جہاں کا کیس بھی شامل کریں گے۔

عشرت جہاں سمیت تین افراد کو احمدآباد کی خصوصی پولیس ٹیم نے پندرہ جون سن دو ہزار چار کو مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں ہلاک کیا تھا اور ملزم ونزارا جو اس وقت احمدآباد کرائم برانچ کی خصوصی برانچ کے ڈپٹی پولیس کمشنر تھے اور وہ پولیس مقابلہ کرنے والی ٹیم کے سربراہ بھی تھے۔

اب ملزم سابق ڈی آئی جی ونزارا پولیس حراست میں ہیں۔ ان پر سہراب الدین کے جعلی پولیس مقابلے کا الزام ہے۔ ونزارا پر سہراب الدین کی بیوی کوثر بی اور اس معاملے کے ایک اہم گواہ تلسی پرجا پتی کے بھی قتل کا الزام ہے۔

عشرت جہاں اور اس کے ساتھ تین افراد کی جعلی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے بعد ونزارا نے پریس میں کہا تھا کہ عشرت جہاں اور اس کے ساتھی اسلامی شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے رکن تھے اور وہ گجرات کے وزیر اعلی نریندر مودی، آّر ایس ایس لیڈر پروین توگڑیا اور لال کرشن ایڈوانی کے قتل کے ارادے سے آئے تھے۔

خالصہ کالج
خالصہ کالج جہاں عشرت جہاں زیر تعلیم تھی

ڈی آئی جی ونزارا کے اس جعلی پولیس انکاؤنٹر کی تحقیقات کے بعد عشرت جہاں کی والدہ اور وہاں کے مقامی افراد کو امید کی ایک کرن نظر آئی ہے۔ عشرت کی والدہ شمیمہ رضا شیخ نے بی بی سی سے ایک خصوصی ملاقات میں بتایا کہ ’مجھے اللہ سے امید تھی کہ میری بے گناہ بچی کے دامن پر لگا داغ ایک دن ضرور دُھل جائےگا۔ ٹی وی پر دیکھ کر پتہ چلا کہ جس شخص نے میری بچی کو دہشت گرد قرار دیا تھا، وہ خود جھوٹا ہے، اس کے پولیس مقابلے جعلی تھے۔ میں اپنی بچی کی لاش دیکھتے ہت چلا چلا کر کہا تھا کہ میری بچی بے گناہ ہے لیکن پولیس نے اس وقت میری بات نہیں سنی لیکن اب میں عدالت کے ذریعہ اپنی بچی کو بے گناہ ثابت کر سکتی ہوں‘۔

عشرت کی والدہ بیوہ ہیں۔ ان کی چار بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ سب کی تعلیم ادھوری رہ گئی کیونکہ کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارتا یہ خاندان اب عدالت جانے کے لیے تیار ہے۔

عشرت کی چھوٹی بہن مسرت جہاں نے پولیس کی زیادتیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ’پولیس نے ان کی گھر کی مکمل تلاشی لی۔ میری بہن کی کتابیں اور تصاویر سب کچھ وہ اپنے ساتھ لے گئے،گھر سے جب کچھ نہیں ملا تو پولیس ہمیں تھانے لے آئی جہاں رات ڈیڑھ بجے تک پولیس سٹیشن میں رکھا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ میرے سات سالہ بھائی امان اللہ تک کا بیان قلمبند کیا گیا تھا‘۔

عشرت ممبئی کے خالصہ کالج میں بی ایس سی کی دوسرے سال کی طالبہ تھی۔ خالصہ کالج کے پرنسپل اجیت سنگھ عشرت کی والدہ کے فیصلے سے خوش ہیں۔

انہوں نے بی بی سے سے بات کرتے ہوئے کہا ’سچائی کو دنیا کے سامنے آنا چاہیے‘۔ عشرت کے بارے میں انہوں نے اور ان کے کالج کے لیکچرار اور طالبات نے پہلے بھی کہا تھا کہ وہ ایک اچھی ذہین طالبہ تھی۔ ’مجھے یقین ہے کہ جس طرح دہلی میں جیسیکا لال قتل کیس کے ملزمان آخر کار پولیس حراست میں ہیں اسی طرح اس کیس میں بھی عدالت صحیح فیصلہ کرے گی‘۔

’کمیونلزم کومبیٹ‘ نامی جریدے کے ایڈیٹر اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن جاوید آنند نےگجرات حکومت اور چند مخصوص پولیس اہلکاروں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ’سہراب الدین کے جعلی پولیس مقابلے نے ونزارا کے ہر پولیس مقابلے پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اس لیے ہم یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ عشرت جہاں کا بھی انکاؤنٹر غلط ہو سکتا ہے‘۔

شمیمہ
مقتولہ عشرت جہاں کی والدہ شمیمہ جو چاہتی ہیں کہ ان کی بیٹی کی ہلاکت کی تحقیقات سی بی آئی سے کرائی جائیں

جاوید آنند نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ریاست میں اتنے جعلی پولیس مقابلے سیاسی شہ کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتے۔ انہوں نے گرفتار پولیس افسران کے نارکو ٹیسٹ (ادویات کے ذریعے سچ اگلوانا کا طریقے) کرانے کے لیے کہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس ٹیسٹ میں ساری حقیقت کھل کر سامنے آسکتی ہے۔ اس ٹیسٹ کے ذریعہ عشرت انکاؤنٹر کی سچائی دنیا بھی جان سکے گی‘۔

تھانے یونٹ ون کے ڈپٹی پولیس کمشنر مدھوکر پانڈے نے عشرت جہاں انکاؤنٹر کے بارے میں بی بی سی کو بتایا کہ ممبرا پولیس نے عشرت کے خلاف کوئی کیس درج نہیں کیا تھا البتہ اس کے انکاؤنٹر کے بعد پولیس نے اس کے گھر کی صرف تلاشی لی تھی۔ ان کے گھر کے لوگوں کے بیانات ریکارڈ کیے تھے جسے انہوں نے احمدآباد پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔

 فرضی تصادم ميں ملوث ہونے کے الزام میں تین پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا ہے تین پولیس افسر گرفتار
فرضی تصادم معاملے ميں تین پولیس اہلکار گرفتار
گجرات کا فرضی تصادم معاملہ اب فرقہ پرستی کا رنگ دینے کی کوشش ہورہی ہے۔جعلی مقابلے
جعلی پولیس مقابلے پرمذہبی رنگ
گجرات: پانچ سال بعد
ناسازگار حالات، انصاف کیلیے ترستے مسلمان
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد