گجرات: سہراب کی بیوی بھی قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات حکومت نے سپریم کورٹ میں یہ اعتراف کیا ہے کہ دو سال قبل ایک فرضی تصادم ميں ہلاک کیے گیے سہراب الدین شیخ کی بیوی کوثر بی کو بھی پولیس نے چند روز بعد قتل کردیا تھا۔ گجرات حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ فرضی تصادم کے معاملے ميں گرفتار کیے گیے پولیس اہلکاروں سے پوچھ گچھ سے پتہ چلا ہے کہ کوثر بی کو بھی ہلاک کر دیا گیا تھا اور ان کی لاش بعد میں کہیں جلا دی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ کوثرکی لاش کی باقیات کی تلاش جاری ہے۔ یہ واقعہ دو برس پرانا ہے جب پولیس نےسہراب الدین نامی ایک شخص کو شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کا رکن بتا کراحمد آباد میں ایک فرضی تصادم میں ہلاک کردیا تھا۔ تصادم کے وقت سہراب کی بیوی کوثر بی بھی ان کی ہمسفر تھیں۔ اس واقعہ کے بعد سے کوثربی لاپتہ تھیں۔ اس فرضی تصادم کے سلسلے ميں چند روز قبل گجرات پولیس نے تین سینئر پولیس اہلکارو ں کو گرفتار کیا ہے۔
فرضی تصادم کے واقعہ کے بعد مقتول سہراب الدین کے بھائی نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں کہاگيا تھا کہ ان کا بھائی شدت پسند نہيں تھا اور ان کے بھائی کو فرضی تصادم میں ہلاک کیا گيا ہے۔ درخواست میں التجا کی گئی تھی کہ حکومت سے سہراب الدین کی لاپتہ بیوی کے بارے ميں بھی دریافت کیا جائے۔اس معاملے کی تفتیش کی گئی اور فرضی تصادم کا معاملہ سامنے آیا۔ فرضی تصادم میں سہراب کے ایک دوست پربا پتی کو بھی پولیس نے فرضی تصادم میں ہلاک کر دیا تھا ۔ پرجاپتی سہراب کے قتل کے چشم دید گواہ تھے اور انہوں نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ گجرات پولیس انہیں قتل کرنے کی تاک میں ہے ۔ اس معاملے کی اب بھی تفتیش جاری ہے۔ کانگریس اور کئی دیگر جماعتوں نے یہ مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کی تفتیش مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کے حوالے کی جائے۔ سپریم کورٹ اس سلسلے میں منگل کے روز فیصلہ سنانے والی ہے۔ |
اسی بارے میں ’ تفتیش سی بی آئی کو سونپی جائے‘26 April, 2007 | انڈیا اصل مجرم بےنقاب کریں:کانگریس26 April, 2007 | انڈیا فرضی تصادم: ایس ایس پی پر فرد جرم 28 February, 2007 | انڈیا لاشیں مسلمانوں کی ہیں: رپورٹ25 May, 2006 | انڈیا گجرات فسادات: قبریں، عدالتی حکم20 April, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||