فرضی تصادم : تین پولیس افسرگرفتار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گجرات پولیس نے دوسال قبل ایک مسلم نوجوان کو فرضی تصادم ميں ہلاک کرنے کے الزام میں تین اعلی پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا ہے۔ یہ گرفتاریاں سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد عمل میں آئی ہیں۔ انسداد دہشت گردی شعبے کے سربراہ ڈی جی ونجارا اور سپرٹینڈینٹ آف پولیس راج کمار پنڈیان کاتعلق گجرات پولیس سے ہے جبکہ تیسرے پولیس افسر دنیش کمار کا تعلق راجستھان پولیس سے ہے جو ’فرضی تصادم‘ کے دوارن ان کے ساتھ تھے۔ یہ واقعہ نومبر دو ہزار پانچ میں اس وقت پیش آیا جب گجرات کے سہراب الدین شیخ اپنی بیوی کوثر بی کے ہمراہ احمدآباد سے مہاراشٹر کے شہر سنگلی جار ہے تھے۔ لیکن پولیس نے احمدآباد کے نزدیک انہيں بس سے اتار لیا۔ پولیس نے اس وقت دعوی کیا تھا کہ سہراب کا تعلق شدت پسند تنظیم لشکرطیبہ سے ہے اور جب وہ فرار ہونے کی کوشش کر رہا تھا تو اسے ہلاک کردیا گیا تھا۔
لیکن سہراب الدین کے بھائی نےسپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی۔ جس میں بتایا گيا کہ ان کا بھائی شدت پسند نہيں تھا اور ان کے بھائی کو فرضی تصادم میں ہلاک کیا گيا ہے۔ عدالت کے حکم پر ریاستی حکومت نے سی آئی ڈی سے انکوائری کروائی اور پولیس کے بیان کو غلط پایا۔ریاستی حکومت نے عدالت میں اعتراف کیا کہ وہ واقعہ ایک فرضی تصادم تھا۔ سہراب کے بھائی نے یہ بھی کہا کہ اس واقعہ کے بعد سہراب کی اہلیہ کوثربی کا بھی کچھ پتہ نہيں چل سکا ہے۔ سماجی کارکن اور گجرات فسادات کے متاثرین کے مقدمات لڑنے والی تیستا سیتلواڈ نے اعلی پولیس اہلکار کی گرفتاری پر اطمینان ظاہر کیا ہے۔انہوں نے کہا ’ اس طرح کے فرضی تصادم عموماً سیاسی قیادت کے اشارے پر کیے جاتے ہیں‘۔ | اسی بارے میں جعلی جھڑپ میں ہلاکت پر احتجاج31 January, 2007 | انڈیا گودھرا، یہ کیسی سزا؟28 February, 2007 | انڈیا چھت گرنےسے 11 طالبات ہلاک27 January, 2007 | انڈیا گجرات: ’5 ہزار خاندان بےگھر‘24 October, 2006 | انڈیا گودھرا کمیشن غیرقانونی: عدالت 13 October, 2006 | انڈیا انڈیا: چھ افراد کو عمرقید کی سزا13 September, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||