BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 April, 2007, 13:02 GMT 18:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ تفتیش سی بی آئی کو سونپی جائے‘

بھارتی پولیس(فائل فوٹو)
’گجرات پولیس نے اکیس پولیس مقابلے کیے ہیں‘(فائل فوٹو)
ہندوستان کی حکمراں جماعت کانگریس اور بائیں بازوں کی جماعتوں نےریاست گجرات کے فرضی پولیس مقابلے کے معاملے کی تفتیش سی بی آئی سے کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

دو برس قبل گجرات میں سہراب الدین نامی ایک شخص کو فرضی تصادم میں ہلاک کیا گیا تھا اور اس سلسلے میں گجرات پولیس نے تین اعلٰی پولیس اہلکاروں کوگرفتار کیا گیا ہے۔

پارلیمان کے اجلاس کے ابتدائی سیشن میں رکن پارلیمان مدھو سدن نے کہا کہ گجرات حکومت سے اس معاملے میں جانبداری کی توقع ہے اس لیے گرفتار شدہ پولیس افسران کا معاملہ سی بی آئی کو سونپ دینا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا ’گجرات پولیس نے اکیس پولیس مقابلے کیے ہیں اور سب کے سب فرضی ہیں اس سے بھی افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ ریاستی حکومت کی ایماء پر کیے گئے ہیں‘۔

اس مسئلے پر جہاں ایک طرف پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی ہو رہی تھی تو دوسری طرف پارلیمان سے تھوڑے فاصلے پر مغربی دلی کے ایک مدرسے کے استاد کی مبینہ طور پر پولیس کسٹڈی میں ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ہو رہا تھا۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ پولیس حافظ کمال الدین کو گرفتار کرکے تھانے لے گئی تھی اور انہیں مار مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ مظاہرے کی قیادت رکن پارلیمان انور علی کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا’پولیس داڑھی، ٹوپی اور پگڑی والوں کے ساتھ ایسا سلوک ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کرتی ہے، یہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے اور پولیس کے خلاف کارراوئی ہونی چاہیے‘۔

 گجرات پولیس نے اکیس پولیس مقابلے کیے ہیں اور سب کے سب فرضی ہیں اس سے بھی افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ ریاستی حکومت کی ایماء پر کیے گئے ہیں۔
رکن پارلیمان مدھو سدن

انور علی کا کہنا تھا کہ دلی میں کانگریس کی حکومت ہے جو مسلمانوں کی مسیحا بننا چاہتی ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ پولیس کے اس ظلم و جبر پر وہ خاموش بیٹھی ہے۔

حافظ کمال الدین کے ایک دوست غلام سرور نے بتایا کہ پولیس اپنا گناہ چھپانے کے لیے علاقے کے لوگوں کو ہرا‎ساں کر رہی ہے۔’ پولیس سب سے کہہ رہی ہے کہ اگر کسی نے اس کے خلاف کوئی بیان دیا تو اسے بخشا نہیں جائےگا۔‘

ایک پڑوسی کا کہنا تھا کہ پولیس نے کمال الدین کو مارنے کے بعد ان کی بیوی کو نظر بند کرر کھا ہے۔ ’پولیس چاہتی ہے کہ حافظ جی کو پاگل قرار دیکر کسی طرح اس پورے معاملے پر پردہ ڈال دیا جائے، وہ اسے کسی بھی طرح رفع دفع کرنا چاہتے ہیں۔‘

لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص کو پولیس کسٹڈی میں نہیں رکھا گیا۔ علاقے کے پولیس افسر منیش اگروال نے بی بی سی کو بتایا کہ کمال الدین کی بارہ بجے رات کو ایک رکشہ والے سے لڑائی ہوگئی تھی۔ بقول منیش اگروال علاقے کے لوگوں نے انہیں مارا تھا اور جب پولیس انہیں ہسپتال لے کر پہنچی تو ان کی موت ہو چکی تھی۔اس پورے معاملے کی تفتیش ایک مجسٹریٹ کو سونپی گئی ہے۔

اسی بارے میں
قبریں کھولنےکا کام معطل
06 February, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد