BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 April, 2007, 00:12 GMT 05:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اصل مجرم بےنقاب کریں:کانگریس

گجرات پولیس
فرضی تصادم کے واحد چشم دید گواہ کو بھی ایک سال بعد ہلاک کر دیاگیا۔
کانگریس پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ گجرات میں ایک مسلم نوجوان کو فرضی تصادم میں قتل کیے جانے کے پیچھے اصل مجرم کو گرفتار کیا جائے۔

یہ واقعہ دو برس پرانا ہے اور اس میں سہراب الدین نامی ایک شخص کو فرضی تصادم میں ہلاک کرنے کے الزام میں گجرات پولیس نے تین اعلی پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا ہے۔

دلی میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے سینئر رہنما اور مرکزی وزیر کپل سبل نے یہ مطالبہ کیا کہ گرفتار کیے گئے پولیس اہلکاروں کے خلاف سہراب کے قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ گجرات پولیس یہ بتائے کہ سہراب کی بیوی کہاں ہے اور اگر انہيں بھی قتل کر دیا گيا ہے تو ان کی لاش کہا ں پھینکی گئی ہے۔

مسٹر سبل نے کہا ’ملک کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کے لیے کوشیش کرنی ضروری ہیں لیکن ایسے پولیس والوں کی بھی ضرورت نہيں ہے جو دہشت گردی کے خلاف لڑائی کے بہانے عام انسانوں کو قتل کرتے ہیں‘۔

سہراب الدین کو نومبر دوہزار پانچ میں ایک بس سے اتار کر احمدآباد کے نزدیک ہلاک کر دیاگيا تھا پولیس سہراب کے ساتھ ان کی بیوی کو بھی لے گئی تھی، لیکن ابھی تک ا ن کی بیوی کے بار ے میں کچھ پتہ نہيں چل سکا۔

پولیس نے اس وقت یہ دعویٰ کیا تھا کہ سہراب لشکر طیبہ کا دہشت گرد ہے اور وہ ریاست کے وزیر اعلٰی نریندر مودی کو قتل کرنے کے مشن پر تھا۔

مقتول سہراب کے بھائی نے سپریم کورٹ میں ایک درخواست داخل کی تھی جس میں پولیس کے دعوے کو غلط بتایا تھا۔

سپریم کورٹ کے حکم پر اس معاملے کی سی آئی ڈی سے جانچ کرائی گی اور ریاستی حکرمت نے یہ اعتراف کیا کہ سہراب کو فرضی تصادم ميں مارا گیا تھا۔ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

مسٹر سبل نے فرضی تصادم کی تفصیلات دیتے ہوئے بتایا کہ کس طرح اس معاملے میں ایمانداری سے تفتیش کرنے والی پولیس افسر کا تبادلہ کیا گيا۔

بقول ان کے فرضی تصادم کے واحد چشم دید گواہ کو بھی ایک سال بعد ہلاک کر دیاگیا۔

مسٹر سبل نے کہا کہ ’ سہراب الدین کا قتل ایک سوچی سمجھی سیاسی سازش کا حصہ تھا اور اس کے پچھے اصل شخص کا چہرہ سامنے آنا چاہیے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد