پولیس پر ہتھیار بیچنے کا الزام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے زیر انتظام جموں کشمیر کی پولیس نے تین پولیس والوں سمیت ایک شہری کو گرفتار کیا ہے۔ ان لوگوں پرالزام ہے کہ ان لوگوں نے محکمہ پولیس کے ہتھیار شدت پسندوں کو فروخت کئے ہیں۔ ڈوڈہ ضلع کے سینئر پولیس افسر منوہر سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ کشتواڑ علاقے سے یہ خبر ملی تھی کہ پولیس کے تین اہلکار اور ایک دیگر شخص شدت پسند تنظیم لشکر طیبہ کے ساتھ ساز باز کر رہا تھا۔ مسٹر سنگھ کا کہنا تھا کہ ان تینوں اہلکاروں کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے اور انہيں حراست میں لے لیا ہے۔ ان اہلکاروں کے نام ہیڈ کانسٹیبل نثار خان، کانسٹیبل محمد عاشق اور سپیشل پولیس افسر محمد یوسف کے طور پر شناخت کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق چار سے پانچ اے کے رائفلز فراہم کرنے کے بدلے شدت پسندوں نے ان لوگوں کو دو لاکھ روپئے دیئے تھے۔ پولیس نے بتایا کہ ہیڈ کانسٹیبل نثار خان اپنے جونیئر کانسٹیبل محمد عاشق کے ساتھ اس اسٹور کی نگرانی کرتا تھا جہاں محکمہ کے تمام ہتھیار رکھے جاتے تھے۔ ان دونوں نے یہ ہتھیار اس شہری تک پہنچائے اور سپیشل پولیس افسر محمد یوسف کو ان ہتھیاروں کو شدت پسندوں تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ مسٹر سنگھ نے بتایا کہ اس بارے میں پولیس کو پہلے ہی خبر مل گئی اور شدت پسندوں تک ہتھیار پہنچنے سے قبل ہی پولیس نے تمام ہتھیار ان لوگوں کے پاس سے برآمد کر لئے۔ مسٹر سنگھ نے مزید بتایا کہ ابھی سودے کی رقم کے بارے میں مزید تفتیش کی جاری ہے۔ حال ہی میں دنوں جموں خطے کے پونچھ ضلع سے دو پولیس اہلکار اور فوج کے تین جوانوں کو شدت پسند تنظيم لشکر طیبہ کو مبینہ طور پر مدد فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ اس معاملے کی تفتیش ابھی جاری ہے۔ | اسی بارے میں حزب المجاہدین کا کمانڈر ہلاک 10 July, 2006 | انڈیا اہم کشمیری شدت پسند گرفتار22 July, 2006 | انڈیا انڈین کشمیر:جھڑپ میں چار ہلاک31 July, 2006 | انڈیا جِنسی سکینڈل میں فردِ جرم24 June, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||