گجرات فسادات متاثرین کا کنونشن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے مغربی شہر احمدآباد میں گجرات کے فرقہ وارانہ فسادات سے متاثرہ تقریباً تین ہزار افراد نے ایک کنونشن میں حصہ لیا اور اپنے مسائل بیان کیے۔ یہ افراد گجرات ریاست میں سنہ دو ہزار دو میں ہونے والے فسادات کے بعد سے اپنے گھر واپس نہیں لوٹ سکے ہیں۔ کنونشن میں ہندستانی اقلیتی کمیشن کے ممبر دلیپ پیڈگاؤں کر، منصوبہ بندی کمیشن کے ممبر سعیدا حمید اور سماجی کارکن شبنم ہاشمی نے شرکت کی۔ محترمہ ہاشمی نے کہا ’سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ متاثرہ افراد کو ریاست میں ہی میں نقل مکانی کرنی پڑ رہی ہے اور زندگی گزارنے کے لیے ان کے پاس بنیادی ضرورتیں بھی نہیں ہیں‘۔ محترمہ ہاشمی کی رضاکار تنظیم ’انہد‘ کی تحقیقات کے مطابق ریاست میں تقریباً پانچ ہزار متاثرہ افراد نقل مکانی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ یہ لوگ عارضی مکانوں میں رہتے ہیں جو رضاکار تنظیموں نے شہر اور دیہات کےمضافات میں بنائی ہیں۔ یہ مکان اصولی اور علامتی طور پر معاشرے سے الگ آباد کیے گئے ہیں۔ محترمہ سعیدہ حمید نے بی بی سی کو بتایا کہ مرکزی حکومت فساد سے متاثرہ افراد کو راحت پہنچانے کے لیے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا ’مسلمان گجرات کی آبادی کے معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور انہیں ہر حال میں ترقیاتی عمل میں شامل کرناچاہیے‘۔ سن دوہزار دو میں گودھرا ریلوے اسٹیشن پر ایک ٹرین میں آگ لگنے سے انسٹھ ہندوؤں کی ہلاکت کے بعد ریاست میں فسادات بھڑک اٹھے تھے۔ہندوؤں کا الزام تھا کہ ٹرین میں آگ مسلمانوں نے لگائی۔ فسادات میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر مسلمان تھے۔ فسادات کے دوران ریاستی حکومت کی کارکردگی کی ہر جانب نکتہ چینی ہوئی تھی کیونکہ حکومت پر الزام تھا کہ اس نے فساد روکنے کے لیے خاطر خواہ کوشش نہیں کی۔ | اسی بارے میں گجرات فسادات پر ایمنسٹی رپورٹ28 January, 2005 | انڈیا گودھرا رپورٹ پر سیاسی تنازع18 January, 2005 | انڈیا ظاہرہ شیخ کا حقہ پانی بند25 December, 2004 | انڈیا گجرات: ’5 ہزار خاندان بےگھر‘24 October, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||