BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 May, 2007, 08:56 GMT 13:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرضی تصادم : نئے انکشافات

gfd
اب یہ انکشاف ہوا ہے کہ پولیس قتل سے پہلے سہراب الدین اور ان کی بیوی کوثر بی کے ساتھ ایک تیسرے شخص کو بھی اپنے ساتھ لے گئی تھی
سپریم کورٹ نے گجرات کے فرضی تصادم کے معاملے کی سماعت جمعرات تک کے لیے ملتوی کردی ہے۔ سپریم کورٹ منگل کو یہ فیصلہ سنانے والی تھی کہ اس معاملے کی تفتیش مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کے حوالے کی جائے یا نہیں۔

لیکن متعلقہ بنچ کے جج بعض دیگر مقدمات کی سماعت میں مصروف تھے اس لیے سماعت ممکن نہيں ہو سکی۔

فرضی تصادم میں مارے گئے سہراب الدین کے بھائی نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ اس معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جائے۔

اس دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ پولیس قتل سے پہلے سہراب الدین اور ان کی بیوی کوثر بی کے ساتھ ایک تیسرے شخص کو بھی اپنے ساتھ لے گئی تھی۔

گجرات حکومت نے سپریم کورٹ میں جو حلفیہ بیان داخل کیا ہے اس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا تھا کہ کوثر بی کو بھی پولیس نے قتل کردیا گيا ہے۔ لیکن اس بارے میں ایک تیسرے شخص کا بھی ذکر ہے جس کے بارے میں ابھی کچھ پتہ نہيں چل سکا ہے۔

اب یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ فرضی تصادم کے اس معاملے میں آندھرا پردیش کے بھی بعض اعلیٰ پولیس اہلکار ملوث تھے اور انہيں بھی اس واقعہ کا علم تھا۔اطلاعات ہیں کہ کئی اور اعلی پولیس افسران کی گرفتاری عمل میں آنے والی ہے۔

ادھر احمدآباد سے ملنے والی خبروں میں بتایا گيا ہےکہ مقامی عدالت نے گرفتار کیے گئے تینوں اعلیٰ پولیس افسران کے پولیس ریمانڈ میں مزید چار دن کی توسیع کردی ہے۔

منگل کو انہیں عدالت میں پیش کیا گيا تھا اور سی آئی ڈی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان افسروں سے مزید پوچھ گچھ کے لیے تحویل کی مدت میں توسیع کی جائے۔

فرضی تصادم کا معاملہ نومبر دو ہزار پانچ کا ہے۔ اس واقعہ میں پولیس نے احمدآباد کے نزدیک سہراب الدین نامی ایک شخص کو لشکر طیبہ کا دہشت گرد بتاکر ہلاک کردیا تھا۔

پولیس نے ان کی بیوی کو ثر بی کو بھی چند روز بعد قتل کرکے لاش جلا دی تھی۔ اس واقعہ کے ایک چشم دید گواہ تلسی رام پرجاپتی کو بھی پولیس نے واقعہ کے ایک برس بعد ایک اور فرضی تصادم میں گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔

اسی بارے میں
گجرات حکومت کی مذمت
12 September, 2003 | صفحۂ اول
گجرات: فسادات میں دو ہلاک
27 February, 2004 | صفحۂ اول
گجرات عذرداریوں کی سماعت
01 September, 2003 | صفحۂ اول
رہائی کے خلاف اپیل
01.01.1970 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد