فرضی تصادم : نئے انکشافات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے گجرات کے فرضی تصادم کے معاملے کی سماعت جمعرات تک کے لیے ملتوی کردی ہے۔ سپریم کورٹ منگل کو یہ فیصلہ سنانے والی تھی کہ اس معاملے کی تفتیش مرکزی تفتیشی ادارے سی بی آئی کے حوالے کی جائے یا نہیں۔ لیکن متعلقہ بنچ کے جج بعض دیگر مقدمات کی سماعت میں مصروف تھے اس لیے سماعت ممکن نہيں ہو سکی۔ فرضی تصادم میں مارے گئے سہراب الدین کے بھائی نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ اس معاملے کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جائے۔ اس دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ پولیس قتل سے پہلے سہراب الدین اور ان کی بیوی کوثر بی کے ساتھ ایک تیسرے شخص کو بھی اپنے ساتھ لے گئی تھی۔ گجرات حکومت نے سپریم کورٹ میں جو حلفیہ بیان داخل کیا ہے اس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا تھا کہ کوثر بی کو بھی پولیس نے قتل کردیا گيا ہے۔ لیکن اس بارے میں ایک تیسرے شخص کا بھی ذکر ہے جس کے بارے میں ابھی کچھ پتہ نہيں چل سکا ہے۔ اب یہ بات بھی سامنے آرہی ہے کہ فرضی تصادم کے اس معاملے میں آندھرا پردیش کے بھی بعض اعلیٰ پولیس اہلکار ملوث تھے اور انہيں بھی اس واقعہ کا علم تھا۔اطلاعات ہیں کہ کئی اور اعلی پولیس افسران کی گرفتاری عمل میں آنے والی ہے۔ ادھر احمدآباد سے ملنے والی خبروں میں بتایا گيا ہےکہ مقامی عدالت نے گرفتار کیے گئے تینوں اعلیٰ پولیس افسران کے پولیس ریمانڈ میں مزید چار دن کی توسیع کردی ہے۔ منگل کو انہیں عدالت میں پیش کیا گيا تھا اور سی آئی ڈی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ ان افسروں سے مزید پوچھ گچھ کے لیے تحویل کی مدت میں توسیع کی جائے۔ فرضی تصادم کا معاملہ نومبر دو ہزار پانچ کا ہے۔ اس واقعہ میں پولیس نے احمدآباد کے نزدیک سہراب الدین نامی ایک شخص کو لشکر طیبہ کا دہشت گرد بتاکر ہلاک کردیا تھا۔ پولیس نے ان کی بیوی کو ثر بی کو بھی چند روز بعد قتل کرکے لاش جلا دی تھی۔ اس واقعہ کے ایک چشم دید گواہ تلسی رام پرجاپتی کو بھی پولیس نے واقعہ کے ایک برس بعد ایک اور فرضی تصادم میں گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔ | اسی بارے میں گجرات حکومت کی مذمت12 September, 2003 | صفحۂ اول گجرات: فسادات میں دو ہلاک27 February, 2004 | صفحۂ اول گجرات عذرداریوں کی سماعت 01 September, 2003 | صفحۂ اول رہائی کے خلاف اپیل01.01.1970 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||