BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 May, 2007, 07:51 GMT 12:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرضی تصادم: مزید پولیس اہلکار گرفتار
2005 میں سہراب الدین نامی ایک شخص کو لشکرِ طیبہ کا دہشت گرد بتا کر ایک فرضی پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا گیا تھا (فائل فوٹو)
گجرات کے فرضی تصادم معاملے میں سپریم کورٹ کے سخت احکامات کے بعد سی آئی ڈی نے مزید آٹھ پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا ہے۔

اس سے قبل گجرات کی پولیس نے پولیس کے تین اعلی اہلکاروں کو گرفتار کیا تھا۔ لیکن اب جن لوگوں کو گرفتار کیا گيا ہے وہ چھوٹے اہلکار ہیں۔

اطلاعات کے مطابق بارہ پولیس اہلکار اب بھی فرار ہیں۔ اس کے علاوہ سی آئی ڈی کی ایک ٹیم مزید تحقیقات کے لیے ریاست آندھر پردیش جانے والی ہے۔

اس سے قبل جمعرات کو سپریم کورٹ نے گجرات کے فرضی تصادم کیس میں اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے۔ عدالت کو یہ فیصلہ سنانا تھا کہ اس کیس کی تفتیش سی بی آئی سے کرائی جائے یا نہیں۔

سپریم کورٹ نے گجرات حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ فرضی تصادم کی حتمی رپورٹ پیش کرے۔ ریاستی حکومت کو دو ہفتے کا وقت دیا گیا ہے۔ آئندہ سماعت 15 مئی کو ہوگی۔

سپریم کورٹ نے حکومت کو یہ حکم بھی دیا ہے کہ وہ سی آئی ڈی افسر گیتا جوہری کی باقی تین رپورٹیں بھی عدالت میں پیش کرے۔ حکومت نے ان کی صرف ایک ہی رپورٹ پیش کی ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم پر گیتا جوہری ہی نے اس کیس کی تفتیش کی تھی اور اسے ایک فرضی تصادم بتایا تھا۔ انہوں نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں پولیس کے ذمہ دار افسروں کے نام بھی بتائے تھے۔ اس رپورٹ کے بعد ریاستی حکومت نے ان افسران کا تبادلہ کر دیا تھا۔

ادھر گجرات میں سی آئی ڈی تیزی سے اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔ سی آئی ڈی کے اہلکار فرضی تصادم میں گرفتار کیے گئے تینوں اعلیٰ پولیس افسران کو بدھ کو احمدآباد کے نواح میں واقع اس فارم ہاؤس اور بنگلے پر لے گئے جہاں مبینہ طور پر سہراب الدین کی بیوی کوثر بی کو قتل کیا گیا تھا۔ سی آئی ڈی کی جانب سے فرضی تصادم کے اصل ملزم ڈی جی ونجارہ کو ان کے گاؤں الول بھی لے جایا گیا جس کے بارے میں خبریں ہیں کہ کوثر بی کی لاش کو وہاں ہی کہیں جلایا گیا تھا۔

فرضی تصادم کا یہ واقعہ نومبر 2005 میں پیش آیا تھا جس میں گجرات اور راجستھان پولیس کے تین اعلیٰ افسران نے سہراب الدین نامی ایک شخص کو لشکرِ طیبہ کا دہشت گرد بتا کر ایک فرضی تصادم میں ہلاک کر دیا تھا۔

گجرات حکومت نے عدالت کو بتایا کہ ان کی بیوی کوثر بی کو بھی چند دن کے بعد انہی افسران نے قتل کر دیا تھا۔ سی آئی ڈی نے تمام متعلقہ پولیس افسروں کے بیانات ویڈیو ٹیپ کیے ہیں۔

 فرضی تصادم ميں ملوث ہونے کے الزام میں تین پولیس اہلکاروں کو گرفتار کیا ہے تین پولیس افسر گرفتار
فرضی تصادم معاملے ميں تین پولیس اہلکار گرفتار
گجرات کا فرضی تصادم معاملہ اب فرقہ پرستی کا رنگ دینے کی کوشش ہورہی ہے۔جعلی مقابلے
جعلی پولیس مقابلے پرمذہبی رنگ
گجرات: پانچ سال بعد
ناسازگار حالات، انصاف کیلیے ترستے مسلمان
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد