بینظیر انکم سپورٹ سکیم کا اجرا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک کے غریب اور مستحق افراد کے لیے بینطیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام جمعرات سے شروع ہو رہا ہے۔ پاکستانی صدر اور مرحومہ بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری اس سیکم کا افتتاح کریں گے۔ وزیر اطلاعات شیری رحمان نے بدھ کے روز اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس پروگرام کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام میں رواں مالی سال کے دوران چونتیس ارب روپے رکھے گئے ہیں اور اس پروگرام سے ملک کے دوسرے علاقوں کے علاوہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر اور شمالی علاقوں کے مستحق افراد اس سے مستفید ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق 30 لاکھ افراد اس پروگرام سے مستفید ہوں گے۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھنے والی تمام جماعتوں کے ارکان کو بینظیر بھٹو انکم سپورٹ میں شامل کیا جائے گا اور پارلیمنٹ کے ہر رکن کو آٹھ ہزار فارم دیئے جائیں گے۔ واضح رہے کہ ارکان پارلیمنٹ کی تعداد 439 ہے جن میں سے 339 قومی اسمبلی جبکہ 100 سینیٹ کے ارکان ہیں۔ قومی اسمبلی میں حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 124 ہے جبکہ سینیٹ میں اُن کے ارکان کی تعداد 9 ہے۔ قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نون کے ارکان کی تعداد 91 جبکہ سینیٹ میں ان کے ارکان کی تعداد 4 ہے۔ سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف کے ارکان کی تعداد سینیٹ میں سب سے زیادہ ہے اور اُن کی تعداد 38 ہے جبکہ قومی اسمبلی میں اُن کے ارکان کی تعداد 54 ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن افراد کی تنخواہ 6 ہزار روپے تک ہے وہ اس پروگرام سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام میں شمولیت کے لیے قومی شناختی کارڈ کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور نادرہ کی موبائل ٹیمیں ہر یونین کونسل کی سطح پر جاکر شناختی کارڈ بنا رہی ہیں۔ شیری رحمان نے کہا کہ جو لوگ پینیشن لے رہے ہیں یا وہ بیت المال سے مستفید ہو رہے ہیں وہ اس پروگرام میں شامل ہونے کے اہل نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن خاندانوں کے افراد کے اکاؤنٹ غیر ملکی کرنسیوں میں ہیں یا جنہوں نے نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرہ) کے اوورسیز کے کارڈ بنا رکھے ہیں وہ بھی اس پروگرام سے استفادہ حاصل نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جن افراد کے پاس تین ایکڑ زرعی اراضی ہے اُن کو بھی اس پروگرام میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس پروگرام کو شفاف بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیےگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ارکان قومی اسمبلی اپنے اپنے حلقوں میں مستحق افراد کی نشاندہی کریں گے اس کے علاوہ یونین کونسل کی سطح پر بھی مستحق افراد کی نشاندہی کروائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹ کے ارکان جن کا کوئی حلقہ انتخاب نہیں ہوتا وہ علاقوں کے سب سے غریب اور مستحق افراد کی نشاندہی کرسکتے ہیں۔ شیری رحمان نے کہا کہ شروع میں مستحق افرد کو یہ رقم ڈاکخانے کے زریعے فراہم کی جائے گی بعدازاں جب ان افراد کے بینظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کے کارڈ بن جائیں گے تو پھر یہ رقم اُنہیں خود بخود ہی مل جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی رکن پارلیمنٹ کی طرف سے بھی کسی غیر مستحق فرد کو اس پروگرام میں شامل کیا گیا اور بعدازاں اس کی نشاندہی ہوگئی تو اُس کو اس پروگرام سے خارج کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ساری دنیا میں سوشل سیکٹر میں فلاحی پروگرام شروع کیے جاتے ہیں اور پاکستان میں یہ پہلا پروگرام ہے جو حکومتی سطح پر شروع کیا جا رہا ہے۔ | اسی بارے میں ہلاکت کے سو روز بعد بینظیر بھٹو کی قبر پر 02 April, 2008 | پاکستان اسلام آباد ائرپورٹ کا نام بینظیر ائرپورٹ20 June, 2008 | پاکستان طریقہ ٹھیک نہیں ہے: قاف لیگ 11 July, 2008 | پاکستان نام میں سب رکھا ہے16 September, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||