BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 July, 2008, 16:51 GMT 21:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طریقہ ٹھیک نہیں ہے: قاف لیگ

اقوام متحدہ
پیپلز پارٹی کا یہ حق ہے کہ وہ جس ادارے سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کروائے: راجہ ظفر الحق
مسلم لیگ قاف نے بینظیر قتل کیس کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کروانے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت تحقیقات کے لیے چاہے پچاس ممالک کے ماہرین کو بلا لے لیکن اختیارات خود اپنے پاس رکھے۔

یہ بات پاکستان مسلم لیگ قاف کے سیکریٹری اطلاعات طارق عظیم نے اقوام متحدہ کی طرف سے پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے قتل کے کیس کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن کی تشکیل پر اصولی طور پر رضامندی کے رد عمل میں کہی۔

طارق عظیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے کیس کی دوبارہ سے تحقیقات کرنا حکمران جماعت کا حق ہے۔ ’لیکن طریقہ کا ر ٹھیک نہیں ہے۔ حکومت تحقیقات کے لیے چاہے پچاس ممالک کے ماہرین کو بلا لے لیکن اختیارات خود اپنے پاس رکھے۔‘

انہوں نے لبنان کے وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کا کمیشن اگر کسی ملک میں تحقیقات کرتا ہے تواس کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ اس کی ٹیم میں شامل لوگ جس جگہ جانا چاہیں وہ جا سکتے ہیں۔ اور جو فائل اور معلومات ان کو درکار ہو گی وہ مہیا کرنی پڑتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کیونکہ اقوام متحدہ کا اپنا کوئی ایسا ادارہ نہیں ہے جو تحقیقات کر سکتا ہو اس لیے وہ بھی ممبر ممالک سے رجوع کرتا ہے۔ ’اگر کل کو اسرائیلی یا کوئی ملک دشمن تنظیم اس ٹیم میں شامل ہو کر پاکستان آتی ہے اور قبائلی علاقوں سمیت حساس اداروں تنصیبات میں جانا چاہے تو حکومت ان کو روک نہیں سکتی ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت بینظیر بھٹو قتل کیس کی تحقیقات کرتی ہے تو نتائج جلد سامنے آ جائیں گے اور اگر اقوام متحدہ تفتیش کرتی ہے تو پھر اسی طرح ہو گا جیسے رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات میں لاکھوں ڈالر خرچ کیے گئے لیکن پھر بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

تاہم پیپلز پارٹی کی اتحادی جماعت مسلم لیگ نواز کے رہنما راجہ ظفر الحق نے بی بی سی بات کرتے ہوئے بتایا کہ پیپلز پارٹی کا یہ حق ہے کہ وہ جس ادارے سے بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کروائے اور اس سلسلے میں ان کی جماعت پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے۔

مشاورت نہیں
 پیپلز پارٹی نے اپنے طور پر اقوام متحدہ کے پاس جانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس میں دوسری جماعتوں سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے
مولانا فضل الرحمٰن

تحقیقات کی آڑ میں دشمن ممالک کے ایجنٹ پاکستان میں گھس آئیں گے کہ جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے آٹھ سال میں نہ جانے کتنے لوگوں کو حساس اداروں اور تنصیبات تک رسائی دی جا چکی ہے۔

حکمران اتحاد کی ایک اور جماعت جمیعت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے طور پر اقوام متحدہ کے پاس جانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس میں دوسری جماعتوں سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے الیکشن سے پہلے یہ اعلان کیا تھا کہ وہ بینظیر قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے رجوع کریں گے اور اب تو انکا حق ہے کہ وہ جس مرضی ادارے سے تحقیق کروائیں۔

انہوں نےمسلم لیگ قاف کے خدشات پر کہا کہ اس وقت پیپلز پارٹی کی سربراہی میں ایک قومی حکومت قائم ہے اور خود پیپلز پارٹی یہ قبول نہیں کرے گی کہ کوئی ملک دشمن عناصر اس تحقیقاتی ٹیم میں شامل ہو کر ملک کے حساس معاملات میں مداخلت کرے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد