BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اقوام متحدہ کمیشن کی تشکیل پر تیار

بینظیر بھٹو کو لیاقت باغ کے گیٹ پر قتل کر دیا گیا تھا
اقوام متحدہ نے پاکستان کی درخواست پر سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کرانے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دینے پر رضامندی کا اظہار کر دیا ہے۔

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیویارک میں جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ نے حکومت پاکستان کی درخواست پر اصولی طور پر اتفاق کر لیا ہے۔

یہ پریس کانفرنس پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بانکی مون سے ملاقات کے بعد بلائی تھی۔

اقوام متحدہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے بارے میں حکومتِ پاکستان کی درخواست پر عمومی اتفاق ہو گیا ہے۔ تاہم بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کمیشن کے بارے میں کئی چیزوں کے طے کیئے جانے کے لیے مزید مشاورت کرنی پڑے گی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اقوام محتدہ کے اعلیٰ اہلکاروں اور ان کے درمیان اس کمیشن کی ہیت، اس پر اٹھنے والے اخراجات کے لیے رقم کی فراہمی اور اس میں بین الاقوامی شہرت کی حامل شخصیات کے شامل کیئے جانے جیسے معالات پر بات چیت ہو گی۔

بینظیر بھٹو کو گزشتہ سال دسمبر میں راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسے کے بعد خود کش حملے میں قتل کردیا گیا تھا۔

پاکستان واپس پہنچنے پر بینظیر بھٹو پر ہونے والے یہ دوسرا قاتلانہ حملہ تھا۔ اس سے قبل ان کے استقبال کے لیے کراچی میں نکالے جانے والے جلوس پر بھی خود کش حملہ کیا گیا تھا جس میں بہت سے قیمتی جانیں ضائع ہو گئی تھیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس کمیشن کا مقصد بینظیر بھٹو کے قتل کی سازش کا منصوبہ تیار کرنے والوں، اس کے لیے پیسہ مہیا کرنے والوں اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کی نشاندھی کرنا ہوگا۔

پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری القاعدہ پر عائد کی تھی اور اقوام متحدہ سے تحقیقات کرانے سے انکار کر دیا تھا۔

سرکاری طور پر کی جانے والی تحقیقات میں کہا گیا تھا کہ حملے میں ایک خود کش حملہ آور ملوث تھا جس نے بینظیر پر گولیاں چلانے کے بعد خود کو دھماکے سے اُڑا لیا۔ تحقیقات کے بعد کہا گیا تھا کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت گولی لگنے سے نہیں ہوئی۔

بینظیر بھٹو کے قتل کے الزام میں پانچ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

حکومتِ پاکستان نے اس قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں برطانیہ کی پولیس اسکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین کو بھی بلایا تھا جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ بینظیر بھٹو کی موت گولی لگنے سے نہیں ہوئی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد