’فیصلہ سلامتی کونسل کرے گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کی ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے حوالے سے پاکستانی درخواست پر حتمی فیصلہ سلامتی کونسل اس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر کرے گی۔ پاکستان نے بینظیر بھٹو کی ہلاکت کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے کی باضابطہ درخواست اسی ماہ نیویارک میں اپنے مستقل مندوب کے ذریعے بھجوائی تھی جس میں ادارے سے اس ہلاکت کی تفتیش کرانے کے ساتھ ساتھ اس بات کی بھی درخواست کی گئی ہے کہ اس ہلاکت کے پس پردہ محرکات اور ذمہ داروں کا بھی سراغ لگایا جائے۔ دومرتبہ سابق وزیراعظم رہنے والی بینظیر بھٹو گزشتہ برس ستائیس دسمبر کو راولپنڈی میں ایک جلسے کے بعد ایک بم دھماکے میں ہلاک ہوگئی تھیں۔ اس وقت کی جنرل مشرف کی انتظامیہ نے پیپلز پارٹی کے مطالبات کے باوجود اس ہلاکت کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے سے انکار کردیا تھا۔ تاہم اٹھارہ فروری کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی سرکردگی میں بننے والی مخلوط حکومت نے پارٹی کے انتخابی منشور کے مطابق اس واقعے کی تفتیش اقوام متحدہ سے کرانے کی درخواست بھجوائی تھی۔ سیکریٹری جنرل بان کی مون کی ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی درخواست کے تمام مالی اور قانونی پہلؤوں کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے اور اس درخواست پر کوئی بھی حتمی فیصلہ ادارے کی سلامتی کونسل کرے گی۔ ترجمان نے اس موقع پر لبنان کے سابق وزیراعظم رفیق الحریری کے قتل کی تحقیقات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ اس موقع پر بھی تحقیقات کرانے کا حتمی فیصلہ سلامتی کونسل نے ہی کیا تھا اور پاکستان کی درخواست پر بھی یہی طریقۂ کار اپنایا جائے گا۔ ترجمان نے گذشتہ ہفتے پاکستان حدودکے اندر امریکی فضائی حملے میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکتوں پراقوم متحدہ کے ردعمل یا تبصرہ پر سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ایک سکیورٹی مسئلہ ہے جس میں سیکرٹری جنرل کوئی مداخلت نہیں کرسکتے بلکہ اگر فریقین میں سے کوئی چاہے تو سلامتی کونسل میں یہ معاملہ اٹھا سکتا ہے۔ دوسری طرف، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے خبر دی ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی فضائي حملوں میں پاکستانی فوجیوں کی ہلاکتوں کے بعد پاکستانی فوج امریکہ سے سخت ناراض ہے جس سے فرنٹیئر فورس کوامریکی تربیت کا چار سو ملین ڈالر کا منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا ہے-
نیویارک ٹائمز نے مذکورہ رپورٹ میں کہا ہے کہ کچھ پاکستان حکام کو یقین ہے کہ امریکہ نے پاکستان پر یہ حملہ جان بوجھ کر کیا ہے- امریکہ اس الزام کی تردید کرتا ہے- اخبار نے پاکستان فوج کے سابق سربراہ اور امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر جنرل ریٹائرڈ جانگیر کرامت کے بیان کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے امریکہ نے جان بوجھ کر تعاون کرنیوالی فورسز پر حملہ کیا ہے اور اب تک بیان بھی جاری نہیں کیا کہ یہ ’فرینڈلی فائر‘ تھا۔ نیویارک ٹائمز نے لکھا ہے کہ پاکستانی فوج دور میں اعلیٰ عہدے پر کام کرنے والے ایک سینئر اہلکار کے حوالے سے کہ امریکہ نے پاکستانی فوج پر جان بوچھ کر حملہ کیا جس کا مقصد پاکستانی فوجوں کو ان کی طرف سے طالبان کی سرحد پار افغانستان دراندازی کو نہ روکنے کی سزا دینا ہے- نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے امریکہ اور پاکستان کے مابین اتحاد جو پہلے دن سے ہی ایک دوسرے پر شکوک اور شبہات کا شکار رہا ہے، آئندہ آنیوالے دنوں میں امریکہ میں صدر بش اور پاکستان میں صدر مشرف کے اقتدار کا سورج غروب ہونےکی صوت میں مزید بد اعتمادی اور خطرے میں پڑجائےگا- | اسی بارے میں ’باضابطہ درخواست بھجوا دی گئی‘30 May, 2008 | پاکستان بی بی قتل، تحقیق اقوام متحدہ سے09 May, 2008 | پاکستان ’بینظیر قتل کی تحقیقات ہوں گی‘29 April, 2008 | پاکستان بینظیر قتل انکوائری پر بات27 March, 2008 | پاکستان اقبالی بیان: بیت اللہ کی جانب اشارہ17 February, 2008 | پاکستان سکاٹ لینڈ یارڈ کی رپورٹ کے اہم نکات08 February, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||