BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 January, 2009, 21:57 GMT 02:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاہور، فیصل آباد میں احتجاج

فیصل آباد احتجاج (فوٹو)
فیصل آباد میں گیس اور بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف اکتوبر میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے
پنجاب کے دو شہروں لاہور اور فیصل آباد میں بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں جن میں پیپلز پارٹی اور اس کے رہنماؤں کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔

فیصل آباد میں درجنوں مقامات پر ہزاروں افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے اور چند ایک جگہ پر یہ احتجاج پرتشدد ہنگاموں میں تبدیل ہوگیا جہاں پولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا۔ان مظاہروں میں دو درجن کے قریب افراد زخمی ہوئے ایک گاڑی، ایک گھر، ایک دکان کو نذر آتش کیا گیا۔ مظاہرین نے شہر کے مختلف علاقوں میں لگے پیپلز پارٹی کے بینر اتار کر جلا دیئے اور بجلی فراہم کرنے والے ادارے کے بورڈ نذر آتش کیے۔ مظاہرین نے بجلی فراہم کرنے والے ادارے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ایک نعرہ تھا کہ ’جب تک بجلی بند رہے گی جنگ رہے گی جنگ رہے گی۔‘ صدر آصف زرداری کے خلاف بھی نازیبا نعرے لگائے گئے۔

مظاہرہ کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ٹیکسٹائل اور اس سے وابستہ گھریلوں صنعتوں کے کارکنوں پر مشتمل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سولہ سے بیس گھنٹے تک کی لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے پاور لومز اور فیکٹریاں بند پڑی ہیں اور وہ بے روزگاری کا شکار ہیں۔ مظاہرہ کرنے والے ایک شخص نے کہا کہ تمام خرابیاں پی پی حکومت کی ناکامی کی وجہ سے پیدا ہورہی ہیں۔

فیصل آباد میں تقریباً تمام اہم داخلی شاہراہوں اور چوراہوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جس کے بعد مظاہرین کینال روڈ پر فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کارپوریشن فیسکو کے ہیڈکواٹر کے سامنے جمع ہوگئے اور توڑ پھوڑ کی۔انہوں نے تمام بورڈ اور سیکیورٹی کیمرے توڑ دیئے قریبی بیکری کے سکیورٹی گارڈ نے فائرنگ کی تو اس بیکری کو آگ لگا دی گئی۔

سی این جی فلنگ سٹیشن کی عمارت کو توڑدیا گیا۔ مشتعل مظاہرین نے یونین کونسل طارق آباد کے ناظم رانا مظہر علی خان کے گھر پر پیپلز پارٹی کا جھنڈا لگا دیکھ کر اس پر حملہ کیا اور پارٹی کا ترنگا جلا دیا۔ رانا مظہر علی خان نے بی بی سی سے ٹیلی فون پرگفتگو کرتے ہوئے کہا انہوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تھی لیکن اس کے باوجود پتھراؤ میں ان کا سر زخمی ہوا اور وہ اردگرد موجود گاڑیوں کو نہ بچاسکے۔

ایک سوال کے جواب میں رانا مظہر علی خان نے کہا کہ پیپلز پارٹی کو اس لیے نشانہ بنایا جارہا ہے کہ اس کی حکومت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہنگامہ کرنے والوں نے مسلم لیگ نون سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے جھنڈے اٹھا رکھے تھے۔

گئوشالہ میں پیپلز پارٹی کے جھنڈے والی ایک جیپ کو نذرآتش کیا گیا، پل چولھا جھنگ روڈ پر آٹے سے بھرے دوٹرک لوٹ لیے گئے اور سمندری روڈ پر پٹرول پمپ کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔ نگہبان پورہ میں مظاہرین نے ٹرین روک لی۔ ان مقامات پر پولیس نے ہلکا لاٹھی چارج کیا۔ تاہم پولیس نے مجموعی طور پر مظاہرین سے تصادم سے گریز کیا ہے۔

فیسکو کے ایک افسرسعید اختر خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مظاہرین کے نمائندوں سے کامیاب مذاکرات ہوئے اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ صنعتوں کے لیے آٹھ گھنٹے سے زیادہ جبکہ تجارتی اور گھریلو سیکٹر کے لیے بارہ گھنٹے سے زیادہ لوڈ شیڈنگ نہیں کی جائے گی۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے چئیرمین طارق سہگل کا کہنا ہے کہ چار دن کے دوران فیصل آباد میں بجلی اور قدرتی گیس کی لوڈ شیڈنگ اتنی بڑھ گئی کہ کارخانے چلانا ممکن نہیں رہا۔

لاہور میں لکشمی چوک اور ہال روڈ پر احتجاجی مظاہرے ہوئے تاجروں اور دیگر شہریوں نے ٹائر جلاکر ٹریفک بلاک کردی اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ان کامطالبہ تھا کہ بجلی کی طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ بند کی جائے۔

پاکستان میں بجلی کی فراہمی کے ادارے پیپکو کے ترجمان نے کہا ہے کہ جنوری کے اختتام تک لوڈ شیڈنگ کی شدت میں کمی ہوجائے گی جب نہروں میں پانی چھوڑاجائے گا اور ہائیڈرو پاور پلانٹ بجلی پیدا کرنا شروع کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس ماہ کے دوران دوہزار میگا واٹ بجلی بحال کی جائے گی۔

پنجاب اور سرحد کے مختلف علاقوں میں قدرتی گیس کی قلت ہے راولپنڈی میں گزشتہ روز ایک پرتشدد ہنگامے کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کیا تھا۔

پاکستان گزشتہ ایک برس سے توانائی کے شدید بحران سے دوچار ہے۔ حالیہ دنوں میں اس کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بجلی اور گیس کے علاوہ کئی شہروں میں پٹرول کی قلت بھی ہے۔

اخباری اطلاعات کے مطابق صدر آصف زرداری نے اس معاملہ پرغور کے لیے جمعہ کو اسلام آباد میں ایک ہنگامی اجلاس بلالیا ہے جس میں تمام متعلقہ محکموں کے وزراء اور افسران شرکت کریں گے۔

اسی بارے میں
پاک ایران: تعاون پر متفق
31 December, 2008 | پاکستان
محرم: 50 سے زائد اضلاع حساس
27 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد