BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 December, 2008, 13:59 GMT 18:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محرم: 50 سے زائد اضلاع حساس

ڈیرہ اسماعیل میں تشدد: فائل فوٹو
ڈیرہ اسماعیل میں فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوا ہے

محرم الحرام کے حوالے سے صوبہ سرحد کے بارہ جبکہ ملک بھر میں پچاس سے زیادہ اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے ان میں ڈیرہ اسماعیل خان بھی شامل ہے جہاں چار ہزار پولیس اہلکاروں کے علاوہ فرنٹیئر کور ایلیٹ فورس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے اہلکار تعینات ہوں گے جبکہ فوج کو کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے چوکس رکھا جائے گا۔

محکمہ داخلہ کے حکام کے مطابق ان پچاس سے زیادہ تمام حساس شہروں کے داخلی اور خارجی راستوں کو سیل اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو حساس مقامات پر تعینات کیا جائے گا۔

صوبہ سرحد کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں محرم شروع ہونے سے پہلے ماحول کشیدہ ہے اور اس حوالے سے شہر میں حفاظتی انتظام کے طور پر داخلے کے تمام راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں جبکہ پولیس کا گشت بڑھا دیا گیا ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی ناظم حاجی عبدالرؤف نے کہا ہے کہ شہر میں محرم الحرام کے حوالے سے سخت حفاظتی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت سے فرنٹیئر کور کے دس پلاٹون طلب کیے گئے ہیں لیکن انہیں اب تک ایف سی کے صرف چار پلاٹون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

حاجی عبدالرؤف کے مطابق کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے فوج کو چوکس رکھا جائے گا۔

شہر میں چار ہزار پولیس اہلکاروں اور ایف سی کے علاوہ ایلیٹ فورس اور فرنٹیئر کانسٹبلری کے اہلکار تعینات ہوں گے جبکہ جلوس کے راستوں پر کیمرے نصب کیے جائیں گے۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ ورارنہ تشدد کے واقعات کے حوالے سےحالات ویسے تو کافی عرصہ سےکشیدہ رہے ہیں لیکن اب کچھ عرصہ سے اس میں شدت آئی ہے۔

اس سال ڈیرہ اسماعیل خان میں فرقہ وارانہ تشدد کے پینتالیس سے زیادہ واقعات پیش آئے ہیں جن میں قانون نافذ کرنے والے نو اہلکاروں سمیت پچہتر افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

شہر میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات تو ہوتے رہے ہیں اب بم دھماکوں کے علاوہ راکٹ باری کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ چار روز پہلے شہر میں نامعلوم افراد نے آٹھ راکٹ داغے تھے جو مختلف مقامات پر گرے تھے لیکن کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

اسی بارے میں
ڈیرہ اسماعیل، صحافی پر حملہ
24 November, 2008 | پاکستان
ڈی آئی خان دھماکہ، ایک ہلاک
17 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد