BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 December, 2008, 21:02 GMT 02:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاک ایران: تعاون پر متفق

ایران پہلے بھی صوبہ بلوچستان میں گوادر پورٹ کو چالیس میگاواٹ بجلی فراہم کر رہا ہے
پاکستان اور ایران نے توانائی کے شعبے میں دو طرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے ایک سمجھوتے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت ایران سے گوادر پورٹ کو ایک سو میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کے لیے ٹرانسمیشن لائن بچھائی جائے گی۔

بدھ کی رات وزارت پانی و بجلی سے جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے کےمطابق پاکستان اور ایران نے پہلے سے جاری توانائی کے منصوبوں کو تیزی سے مکمل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ جن کی نگرانی کے لیے دونوں ممالک کے متعلقہ وزراء کی سطح کی ایک کمیٹی بنائی جائے گی۔

اس سے پہلے اسلام آباد میں ایک اجلاس ہوا جس میں ایران کے وزیر برائے توانائی پرویز فاتح اور پاکستان کے وزیر پانی اور بجلی راجہ پرویز اشرف اور دونوں ممالک کے متعلقہ حکام نے شرکت کی ہے۔

اجلاس میں موجود ایران کے ڈپٹی وزیر برائے توانائی اور پاکستان کے بجلی فراہم کرنے والے ادارے پیپکو کے مینجنگ ڈائریکٹر کے درمیان ایک سمجھوتے پر دستخط ہوئے جس کے مطابق ایران گوادر پورٹ کو ایک سو میگاواٹ بجلی فراہم کرے گا جس کے لیے ایران ٹرانسمیشن لائن بچھائےگا جو دو ہزار نو کے آخر تک مکمل ہو گی۔

یاد رہے کہ ایران پہلے بھی صوبہ بلوچستان میں گوادر پورٹ کو چالیس میگاواٹ بجلی فراہم کر رہا ہے۔

اس کے علاوہ ایران کے سرحدی شہر ذاہدان سے کوئٹہ تک ایک ہزار میگاواٹ بجلی کی ٹرانسمیشن لائن بچھانے کی فیزیبلٹی( ابتدائی ) رپورٹ کو جلد از جلد مکمل کیاجائے تاہم ہزار میگاواٹ بجلی ایران سے درآمد کرنے کے سمجھوتے پر پہلے سے دسختط ہو چکے ہیں۔

ایرانی وزیر نے اجلاس میں پاکستان کو مزید ایک ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

اجلاس میں پاکستان نے ایران کے وفد کو مستقبل میں شروع کیے جانے والے توانائی کے منصوبوں کے حوالے سے بریفنگ دی جس کے مطابق پاکستان نے دو ہزار پچیس تک مختلف ذرائع سے تئیس ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے جس کے لیے تقریباً سینتیس ارب ڈالر کی رقم درکار ہو گی۔

پریس ریلز کے مطابق ایرانی وفد نے توانائی کے متعدد منصوبوں میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز ایران کے وزیر توانائی نے صدر آصف زرداری سے ملاقات کی تھی جس میں ایران نے تین ماہ کی موخر ادائیگیوں پر پاکستان کو یومیہ پچاس ہزار بیرل خام تیل فراہم کرنے کی پیشکش کی تھی۔ تاہم وزارت پیڑولیم کے ذرائع کے مطابق صدر آصف زرداری نے ایران کے وزیر سے درخواست کی تھی کہ ادئیگیاں تین ماہ کی بجائے زیادہ مدت کے لیے موخر کی جائیں۔

یاد رہے کہ ایران پہلے سے ہی پاکستان کو یومیہ دس ہزار بیرل خام تیل ایک ماہ کی موخر ادائیگیوں پر فراہم کر رہا ہے۔

واضع رہے کہ پاکستان میں بجلی کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے ملک کوموسم سرما میں بھی تقریباً تین ہزار میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے روزانہ آٹھ سے دس گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جاری ہے ۔ جبکہ لوڈشیڈنگ کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاج بھی کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
01 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد