BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 January, 2009, 17:13 GMT 22:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان:’بجلی کمی5 ہزار میگاواٹ‘

پن بجلی(فائل فوٹو)
دسمبر تک لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ کر دیا جائے گا: وفاقی وزیر
پاکستان میں ایک طویل عرصے سے چل رہے بجلی کی کمی کے بحران نے حالیہ دنوں میں انتہائی خراب صورتحال اختیار کر لی ہے۔ حکام کے مطابق ملک کو اس وقت پانچ ہزار میگا واٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے۔

کمی کی بڑی وجہ ملک میں قدرتی گیس اور تیل کی قلت کے علاوہ سالانہ بھل صفائی کی وجہ سے ڈیموں سے پانی کی کم مقدار چھوڑنا بھی ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں بجلی پیدا کرنے کے لیے تیل اور قدرتی گیس کی کمی بھی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔

تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ اس ماہ کے اواخر تک جب ڈیموں سے پانی کا اخراج شروع ہو جائے گا حالات بہتر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ حکومت نے گیس کے گھریلو صارفین کے لیے لوشیڈنگ نہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔

دوسری جانب شدید سرد موسم میں پاکستان کے مختلف شہروں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی سلسلہ آج بھی جاری رہا۔

فیصل آباد میں جمعرات کے پرتشدد احتجاج کے بعد طلب کیئے جانے والے ایک اجلاس میں اس بحران پر غور ہوا۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے توانائی کی کمی کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی جس میں مختلف وزارتوں کے اہلکاروں نے انہیں صورتحال کا جائزہ پیش کیا۔

اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان اور وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے بتایا کہ بجلی کا موجودہ بحران ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی آبی ذخائر میں کمی کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔

سالانہ بھل صفائی کی وجہ سے ڈیموں سے پانی بہت کم چھوڑا جا رہا ہے۔ شیری رحمان نے اس پانی کی اس کمی کو تاریخی کمی قرار دیا۔

بحران کی دوسری بڑی وجہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے چار سو ارب روپے کے بقایاجات ہیں جو آج کے فیصلے کے مطابق آئندہ چھ ماہ میں ادا کر دیئے جائیں گے۔ راجہ پرویز اشرف نے بتایا کہ تیل سے چلنے والے بجلی گھروں کو تیس ہزار ٹن تیل کی روزانہ ترسیل بھی جمعہ سے شروع ہو جائے گی۔ اس بابت ساڑھے سات ارب روپے وزارت خزانہ نے جاری کر دیئے ہیں۔ اس سے توقع ہے کے نظام میں دو ہزار میگاواٹ اضافی بجلی مہیا کی جاسکے گی۔

بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے لیئے ملک بھر میں دس سے بارہ گھنٹے بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے پورا کیا جا رہا ہے۔ تاہم بعض علاقوں میں بیس بیس گھنٹے تک بجلی کی عدم فراہمی کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔

راجہ پرویز اشرف کہتے ہیں کہ حکومت کے لیئے بجلی پر سبسڈی برقرار رکھنا بھی مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے جوکہ بقول ان کے حکومت پر بوجھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبی ذخائر سے اسی لیئے سستی بجلی کی پیداوار پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔

پاکستان میں ویسے تو تمام سال بجلی کا بحران رہتا ہے لیکن موسم سرما میں لوڈشیڈنگ کی صورتحال انتہائی ابتر ہو جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق ماضی میں حکومتوں کی عدم دلچسپی، نوکرشاہی کی سست روی اور نجی شعبے کی عدم توجہی کی وجہ سے توانائی کا بحران سنگین سے سنگین تر ہوتی جا رہی ہے۔

تاہم وفاقی وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ ملک سے لوڈشیڈنگ کا مکمل خاتمہ اس سال دسمبر تک کر دیا جائے گا۔

اسی بارے میں
پاک ایران: تعاون پر متفق
31 December, 2008 | پاکستان
محرم: 50 سے زائد اضلاع حساس
27 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد