جنوبی، وسطی ایشیا: دنیا کے خطرناک علاقے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
نامزد امریکی صدر باراک اوباما اور مغربی ممالک کو پاکستان، افغانستان اور اس خطے میں استحکام لانے کے لیے بہت دشواری کا سامنا کرنا ہو گا۔ جنوبی اور وسطی ایشیا دنیا میں سب سے خطرناک علاقے ہیں اور یہ سنہ دو ہزار نو میں بھی رہیں گے۔ طالبان نے اپنی کارروائیاں کابل تک وسیع کردی ہیں اور پاکستان میں القاعدہ، طالبان اور ان کی حمایتی تنظیموں کی رہنمائی میں کئی مسلح تصادم جاری ہیں۔ بھارت میں بھی کئی مسلح تصادم جاری ہیں اور مسلمان اور عیسائی اقلیتیں اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ممبئی حملوں کے بعد سے کشیدگی بڑھ گئی ہے کیونکہ بھارت کا الزام ہے کہ پاکستان کی تنظیم لشکر طیبہ ان حملوں میں ملوث ہے۔ اس وجہ سے دونوں ممالک میں چار سال پرانے مذاکرات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو گئے ہیں۔ وسطی ایشیا کے کئی علاقوں میں غربت ہے، سماجی خدمات کی تباہی اور اسلامی شدت پسندی ہے۔ لیکن سب سے بڑا خطرہ پاکستان سے ہے جس کے بارے میں سابق امریکی سیکریٹری خارجہ میڈلین البرائٹ نے ’عالمی سر درد‘ کہا تھا جہاں پر ایٹمی ہتھیار، سیاسی عدم استحکام اور غربت موجود ہے۔ اس خطے کی مشکلات سے عالمی استحکام کو خطرہ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عالمی جہادی تنظیموں سے بھی خطرہ ہے جو یورپ، افریقہ اور ایشیا میں اپنی کارروائیاں دو ہزار نو میں تیز کر دیں گی۔ دریں اثناء سارا خطہ عالمی معاشی بحران سے کسی حد تک متاثر ہوا ہے۔ مختصراً نامزد امریکی صدر باراک اوباما اور مغربی ممالک کو اس خطے کی مشکلات حل کرنی ہو گی تاکہ اس خطے میں مزید استحکام آئے۔ اس سلسلے سب سے اہم بات حکومتوں اور عوام میں تعلقات کو استوار کرنا ہے۔ بھارت کا سیاسی نظام مستحکم ہے اور ابھی تک مخالفت، مہم جوئی اور مسلح تصادم سے نمٹ رہا ہے۔ لیکن دو ہزار نو میں انتخابات اور ممکنہ ہندو بنیاد پرستوں کی جیت سے بھارت کی سوسائٹی مزید بٹ سکتی ہے۔ وسطی ایشیا کی ریاستیں ازبکستان، تاجکستان، ترکمانستان اور کرغستان میں حکمران وہ لوگ ہیں جو عوام سے دور ہیں، جن پر بدعنوانی اور نااہل حکمرانی کے الزامات ہیں۔ یہ ریاستیں سوویت یونین سے علیحدہ ہونے کے بعد سے اب تک کوئی متبادل سیاسی نظام نہیں بنا سکی ہیں۔ افغانستان میں منشیات اور بدعنوانی کی روک تھام کے حوالے سے عوام کے تاثرات حکومت کے بارے میں کچھ اچھے نہیں ہیں۔ لیکن انتخابات ضرور ہونے چاہیے کیونکہ اس سے ریاست آگے بڑھے گی، مسلح تصادم اور ترقی کے فقدان پر قابو پایا جا سکے گا۔ دوسری طرف طالبان انتخابات میں رکاوٹیں کھڑی کریں گے اور وہ موسم سرماں اور موسم بہار میں اپنی کارروائیاں تیز کردیں گے تاکہ افغانستان میں موجود نیٹو افواج اور عنقریب آنے والے بیس ہزار امریکی فوجیوں کو دباؤ میں رکھ سکیں۔ تاہم اس خطے کے استحکام کے لیے پاکستان سب سے اہم ہے۔ پاکستان میں فوج ایٹمی اور خارجہ پالیسی پر حاوی ہے اور وہ ابھی بھی بھارت کو سب سے بڑا خطرہ سمجھتی ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کی حکومت بھارت اور افغانستان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا کر اس نظریے کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
دوسری طرف آئی ایس آئی ریاست میں ریاست بن چکی ہے جبکہ ملکی اور غیر ملکی جہادی شمالی پاکستان میں کئی علاقوں پر قابض ہیں اور ان کا اپنا ہی ایجنڈا ہے۔ اس سے واضح ہے کہ عالمی دنیا اس بات کی متحمل نہیں ہے کہ تمام تر توجہ افغانستان پر مرکوز کر کے باقی خطے کو تصادم اور غیر استحکامی کی جانب جاتا دیکھے۔ اور وہ بھی اس وقت جب اس خطے ک مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب تک پاکستان اور بھارت میں امن نہیں ہو گا تب تک افغانستان کا مسئلہ حل نہیں ہو گا اور جب تک وسطی ایشیا کو خطے کے ترقی میں شامل نہیں کیا جاتا اس میں سے کچھ حصہ عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ نامزد امریکی صدر باراک اوباما اور مغربی ممالک کو اس خطے کو ایک یونٹ کی مانند دیکھنا ہو گا اور غربت، ناخواندگی اور کمزور حکمرانی جیسے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ اس خطے میں جمہوریت کے حوالے سے مربوط پالیسی کی ضرورت ہے۔ لیکن افغانستان کے لیے مزید فوج اور ترقی کے لیے مزید رقم کا انتظام کرنا معاشی تنزلی کے عرصے میں مشکل ہے اور خاص طور پر اس وقت جب امریکی اور یورپی عوام یہی رقم اپنے ممالک میں لگانے کے حق میں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||