پاکستان، بھارت، امریکہ، مفادات کی جنگ میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی حملہ آوروں پر قابو پانے کے فوراً بعد تحقیقات اور ’میڈیا وار‘ کے علاوہ ایک سہہ فریقی سفارتی جدوجہد بھی شروع ہوچکی ہے۔ ہندوستان اور پاکستان اس تکون میں اب امریکہ کو اپنا حامی اور ہم خیال بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے خیال میں جوہری ہتھیاروں سے مسلح اس خطے کو جنگ سے بچانے کے لیے امریکہ کی ایک بار پھر ضرورت پڑی ہے۔ اس مرتبہ بھی اگرچہ دونوں ممالک نے امریکہ سے کوئی عوامی سطح پر مداخلت کی اپیل نہیں کی لیکن حملے کے دوسرے روز بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ اور پاکستان سے صدر آصف علی زرداری نے امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس سے ٹیلیفون پر بات کی تھی۔ رائس کا آج سے اس خطے کا دورہ انہی رابطوں کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ گیارہ ستمبر کے امریکہ پر حملوں کے بعد سے جنوبی ایشیاء کی سیاست میں جو بڑی تبدیلیاں آئیں ہیں ان میں سے ایک امریکہ کا یہاں کی سیاست میں وقت کے ساتھ ساتھ اب باضابطہ طور پر زیادہ ملوث ہونا بھی ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق امریکہ افغانستان میں اپنی موجودگی کی وجہ سے اب ایک فریق بن کر ابھرا ہے۔ ایسے میں اس سے ایک غیرجانبدار اور مخلص ثالث کی توقع کرنا ناممکن ہے۔ لیکن پھر بھی سپر پاور ہونے کے ناطے اس کی بات وزن رکھتی ہے اور کوئی ٹال نہیں سکتا۔ پاکستان تو دبے دبے الفاظ میں ملک میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات کو بھارت سے جوڑتا رہا ہے۔ لیکن اس نے کبھی بھی اس کے نتیجے میں بھارت پر حملے کی ’دھمکی‘ نہیں دی۔ لیکن دوسری جانب جب بھی ہندوستان پر دہشتگردی کا حملہ اندرون یا بیرون ملک ہوتا ہے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے امریکہ کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ یہ صورتحال انیس سو ننانوے میں کارگل، دسمبر دو ہزار ایک میں دلی میں بھارتی پارلیمان اور اس سال کابل میں بھارتی سفارت خانے پر حملوں سے دیکھی گئی ہے۔ امریکہ نے صرف اپنے خدشات اور مفادات کی خاطر ہر مرتبہ بھارت کو ٹھنڈے دماغ سے سوچنے اور بھارتی قیادت کو جنگی ترانے الاپنے سے منع کیا۔ لیکن ان تین موقعوں پر امریکی ردعمل مختلف تھا۔ انیس سو ننانوے میں جب پاکستان پر کارگل میں مداخلت کا الزام عائد کیا گیا تو وزیر اعظم نواز شریف کو صدر بل کلنٹن سے ملنے واشنگٹن جانا پڑا تاکہ وہ بھارت کو سمجھا سکیں۔ اس وقت امریکہ کا علاقے میں کچھ زیادہ داؤ پر نہیں لگا تھا۔ اس وقت وہ افغانستان میں موجود نہیں تھا۔ گیارہ سمتبر کے حملوں کے نتیجے میں اس کے افغانستان پر قبضے کے بعد امریکہ بھی علاقے میں ایک فریق بن چکا ہے۔ اس کا بھی اس خطے میں جنگ اور امن سے براہ راست تعلق ہے۔ پاکستان اگر اپنی فوجیں مغربی سرحد سے ہٹا کر مشرقی سرحد پر تعینات کرنے کی بات کرتا ہے تو امریکیوں کی نیندیں اڑ جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے اب جب بھی کشیدگی بڑھتی ہے تو امریکی وزیر خارجہ اپنی تمام تر مصروفیات چھوڑ چھاڑ کر خطے کا رخ کرتے ہیں۔ اس مرتبہ امریکی وزیر خارجہ کی آمد سے قبل پاکستان کو واضح پیغام موصول ہوگیا ہے۔ کونڈولیزا رائس کا کہنا ہے کہ پاکستانی قیادت کو انہوں نے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ اچھے بچوں کی طرح مکمل تعاون کرے۔ دلی میں قیام کے دوران امریکی وزیر خارجہ اظہار ہمدری کے ساتھ ساتھ بھارتی حکام سے تحقیقات پر بھی بات کریں گی۔ بھارت کے فراہم کردہ شواہد سے مسلح ہوکر جب وہ پاکستان پہنچیں گی تو ان کا پاکستان سے مطالبہ یہی ہوگا کہ ان شدت پسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ حالیہ برسوں میں برِصغیر میں جب بھی کشیدگی پیدا ہوئی امریکہ نے اپنے مفاد کی خاطر بھارت کو خاموش رہنے پر مجبور کیا۔ لیکن بھارت کے ساتھ اس کا ایک اتفاق رائے بظاہر اس بات پر نظر آتا ہے کہ امریکی ثالثی کی حد مسئلہ کشمیر سے کہیں پہلے ختم ہوجاتی ہے۔ اس کی ایک مثال گزشتہ دنوں نومنتخب امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے کشمیر کے قضیے کی جلد از جلد حل کی بات پر بھارت میں کافی ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا تھا۔ حالیہ کشیدگی ایک ایسے موقعے پر پیدا ہوئی ہے جب ملک کے فوجی ذرائع اس بات کے خدشات ظاہر کر رہے تھے کہ امریکہ اب بھارت کی زیادہ اور ان کی کم مانتا ہے۔ اس بابت وہ کابل میں بھارتی سفارت خانے پر حملے کی مثال دیتے ہیں جس میں امریکہ نے بھارت کی سنی اور پاکستان کی ان سنی کر دی۔ ممبئی حملوں نے پاکستان کو بھارت امریکی اتحاد کے مزید دباؤ میں کر دیا ہے۔
بھارتی حکومت بھی اس وقت سخت مشکل میں ہے۔ عام انتخابات اس کے سر پر ہیں۔ اس موقعے پر ’مناسب اقدامات‘ نہ اٹھانے کی صورت میں اسے ووٹروں کی ناراضگی مول لینی پڑ سکتی ہے۔ مبصرین پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ امریکہ اور بھارت کسی جنگ کے حق میں نہیں ہوں گے لیکن وہ ممبئی حملے کا فائدہ اٹھا کر پاکستان سے بہت کچھ کروانے کی کوشش ضرور کریں گے۔ ان میں مطلوبہ افراد کی حوالگی ایک ایسا پرانا مسئلہ ہے جو بھارت نے پھر سے تازہ کر دیا ہے۔ اوبامہ کے تاہم اس حالیہ بیان نے پاکستان کو یقیناً تشویش میں ڈال دیا ہوگا جس میں انہوں نے کہا ہے کہ بھارت کو پاکستان کے اندر فوجی کارروائی کا پورا پورا حق حاصل ہوگا۔ امریکی قیادت کا بھارت جیسی بڑی معیشت کی جانب جھکاؤ ہمیشہ رہا ہے۔ تاہم یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے کہ جب بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستانی فوجی قیادت پہلے ہی نئے صدر کے خیالات اور منصوبوں کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ ان کے مزید امریکی فوج افغانستان میں تعیناتی کے اعلان کو یہاں سرد مہری سے دیکھا جاتا ہے۔ پاکستانی اسٹبلشمنٹ کسی بھی طرح خطے میں طویل امریکی موجودگی کے حق میں نہیں۔ شکوک وشبہات اوباما کی جانب سے پاکستانی فوج کے ساتھ سخت رویے کی باتوں سے بھی واضح ہیں۔ جنوبی ایشیا میں سرگرم تینوں فریق، پاکستان، بھارت اور امریکہ، اپنے اپنے مفادات کی جنگ میں اس وقت ایک دوسرے کو بیک وقت دوست اور دشمن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ماضی کے حریف بھارت اور امریکہ اگرچہ اب حلیف ہونے کا تاثر دے رہے ہیں۔ لیکن اس اختلافی کیفیت میں کشیدگی اگر کم بھی ہوئی تو ماضی کی طرح وقتی ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||