BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 December, 2008, 19:25 GMT 00:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سفارتی تعلقات سب سے زیادہ متاثر

ممبئی
حملہ آوروں کا بڑا نشانہ ممبئی کا تاج ہوٹل جو ایک صدر پرانا ہے
بھارت پر دہشت گرد حملوں نے گزشتہ کئی سالوں سے قدرے معمول پر آنے والے پاکستان انڈیا تعلقات کو جس شدید سفارتی جنگ میں بدل دیا ہے اس سے نہ صرف پورا خطہ ایک ممکنہ خطرے سے دو چار ہوا ہے بلکہ بھارتی الزامات کے بعد پاکستانی سکیورٹی حکام کی جانب سے جاری ہونے والے بیان نے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر موجود امریکہ کو بھی پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔

پاکستانی سکیورٹی حکام نے بظاہر دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ’اگر مشرقی سرحدوں پردباؤ بڑھتا ہے تو مغربی سرحد پرتعینات پاکستانی فوج کو بلایا جاسکتا ہے‘۔ یعنی دوسرے لفظوں میں یہ امریکہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل دیگر مغربی ممالک کو ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان پاک افغان سرحد پر طالبان اور القاعدہ کے خلاف کارروائیوں سے دستبردار ہو جائے گا۔

پاکستان کی اس دھمکی کا بظاہر مقصد امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کو بھارت کی صف میں کھڑا ہونے سے روکنا ہے اور اس بیان کے بعد یہ مقصد کچھ حد تک حاصل بھی کر لیا گیا۔ امریکہ کے قدرے سخت موقف میں لچک پیدا ہوئی اور وائٹ ہاؤس کی ترجمان ڈانا پیرینو نے ایک بریفنگ کے دوران کہا کہ ’امریکہ کو اس بات پر یقین نہیں ہے کہ پاکستان کی حکومت بھارت میں دہشت گرد حملوں میں ملوث ہے‘۔

پاکستان نے بر وقت ہوشیاری کے ساتھ پتہ پھینک کر کشیدہ صورتحال میں ایک حد تک امریکہ کو’غیر جانبدار‘ بنانے میں کامیابی حاصل تو کر لی لیکن اس بیان نےملک کے اندر قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں فوجی آپریشن کی مخالفت کرنے والی جماعتوں کے موقف کو درست قرار دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کی اپنی جنگ نہیں ہے۔

گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی فوجی حکومت اور اٹھارہ فروری کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت میں قائم ہونے والی جمہوری حکومت کا موقف یہی رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکہ کی نہیں پاکستان کی اپنی جنگ ہے۔ پاکستان کی لبرل قوتیں اسی موقف کی حمایت کرتی آ رہی ہیں۔

پاکستان کی اپنی جنگ
 گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی فوجی حکومت اور اٹھارہ فروری کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت میں قائم ہونے والی جمہوری حکومت کا موقف یہی رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ امریکہ کی نہیں پاکستان کی اپنی جنگ ہے

لیکن دائیں بازو کی جماعتیں، جماعت اسلامی، اقتدار اور حزب اختلاف کی کشتیوں میں سوار مولانا فضل الرحمن کی جمیعت علما اسلام، تحریکِ انصاف، مسلم لیگ(ن) اور دائیں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والے صحافی، دانشور، تجزیہ نگار اور زیادہ تر ریٹائرڈ فوجیوں کا موقف یہی رہا ہے کہ ’پاکستان اپنی نہیں بلکہ امریکہ کی جنگ لڑ رہا ہے‘۔

بھارت پر حملوں کے بعد پاکستان کے اس بیان سے مبصرین یہی معنی اخذ کر رہے ہیں کہ درونِ خانہ ’پاکستانی اسٹبلشمنٹ‘ طالبانائزیشن کو ملک کے لیے حقیقی خطرہ نہیں سمجھ رہی بلکہ یہ سرحد پار تعینات امریکی اور نیٹو فورسز کے لیے ایک خطرہ ہے کیونکہ اگر یہ پاکستان کے لیے حقیقی خطرہ ہوتا تو حکومت ایسا بیان دینے کی کبھی بھی جسارت نہیں کرتی۔

یہ بیان بعض تجزیہ نگاروں کی اس سوچ کو بھی ایک حد تک تقویت پہنچاتا ہے کہ خطے میں امریکہ کی موجودگی اور بھارتی اثر و نفوذ روکنے کے لیے پاکستان مبینہ شدت پسندوں کو اپنا ’اسٹریٹیجک اثاثہ‘ سمجھ رہا ہے اور یہ کہ دونوں ’فطری اتحادی‘ ہیں۔

کیونکہ دلیل یہ دی جاتی ہے کہ اس بیان کے بعد قبائلی علاقوں اور سوات میں فوج کے ساتھ برسرِ پیکار طالبان نے بھی اعلان کیا کہ ’وہ ملکی سرحدوں کی دفاع کی لیے پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ لڑیں گے‘۔

پاکستان کا موقف فوج کا وقار ؟
پاکستان فوج کا ایسا استقبال کیوں نہیں ہوتا؟
داؤد ابراہیموہی لسٹ وہی موقف
بھارتی لسٹ بھی پرانی، پاکستانی موقف بھی پرانا
ممبئیآئندہ چند روز اہم ہیں
ہند و پاک صورتِ حال سفارتی کوششیں اہم
’قومی کانفرنس‘
اٹھاون جماعتیں شرکت پر آمادہ ہو گئیں۔
 فرید کوٹ کے چند لوگفرید کوٹ کہاں ہے؟
ممبئی میں حملے اور پاکستان کافریدکوٹ
اخباراتممبئی: پاکستانی میڈیا
بھارت کا پاکستان پر الزام زیر بحث
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد