BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 November, 2008, 12:12 GMT 17:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی میں حملے اور پاکستان کافریدکوٹ

فرید کوٹ کے چند لوگ
فرید کوٹ کے چند لوگ
بین الاقوامی میڈیا میں بھارتی شہر ممبئی میں حالیہ دہشت گردی کے بعد گرفتار ہونے والے مبینہ پاکستانی کا ذکر تین مختلف ناموں کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ ابتداء میں اجمل عامر کمال نام سامنے آیا، پھر اعظم عامر کسو اور اب ممبئی سے گرفتار ہونے والے مبینہ پاکستانی کو اجمل محمد عامر کسب کہا جا رہا ہے۔

بھارت سمیت مختلف یورپی ممالک کے اخبارات اپنے اپنے ذرائع کے مطابق زیرِ حراست دہشت گرد کا مختلف نام استعمال کر رہے ہیں لیکن ان تمام اخبارات کا ایک ہی دعویٰ ہے کہ اجمل عامر کا تعلق پاکستان میں جنوبی پنجاب کے شہر ملتان کے علاقے فرید کوٹ سے ہے۔

ملتان شہر کے گرد و نواح میں فرید کوٹ نامی کوئی قصبہ نہیں تاہم ملتان ڈویژن کے دو اضلاع میں دو مختلف فرید کوٹ ہیں۔

ایک فرید کوٹ ملتان سے تقریباً پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر ضلع خانیوال کی شہری حدود میں واقع ہے۔ خانیوال شہر سے پانچ کلو میٹر فاصلے پر اس گاؤں کا سرکاری نام ’نوے دس آر‘ ہے تاہم یہ گاؤں فرید کوٹ کے نام سے ہی جانا جاتا ہے۔ یہ گاؤں بمشکل ایک سو مکانات پر مشتمل ہے۔ گاؤں میں ایک چھوٹی سی مسجد اور آٹھویں جماعت تک کا ایک سکول ہے۔

اس فرید کوٹ کے زیادہ تر لوگ کاشتکاری کرتے ہیں یا پھر مزدوری کرنے خانیوال شہر جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں سے بات چیت کے بعد پتہ چلا کہ وہاں سے نہ تو کبھی کوئی جہاد پر گیا ہے اور نہ ہی اجمل عامر کمال نامی کوئی شخص یا اس کا خاندان کبھی گاؤں میں رہا ہے۔

ملتان ڈویژن کا دوسرا فرید کوٹ بابا فرید گنج شکر کے شہر پاکپتن شریف سے چودہ کلو میٹر اور ملتان شہر سے دو سو کلو میٹر دور ہے۔ یہ قصبہ شمال مشرق میں سرحد پار بھارتی ضلع فیروز پور سے محض پینتالیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔

پاکپتن کا فرید کوٹ پاکستان کے روایتی دیہات کا منظر پیش کرتا ہے جہاں ہر شخص دوسرے شخص کو جانتا ہے۔ دو حصوں میں تقسیم اس قصبے کی آبادی دو ہزار کے لگ بھگ ہے اور زیادہ تر لوگ کاشتکاری کرتے ہیں۔ قصبے کے چند نوجوان روزگار کے حصول کے لیے ملک کے دیگر شہروں یا متحدہ عرب امارات منتقل ہوگئے ہیں تاہم مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کوئی شخص کبھی نام نہاد جہاد یا کسی تنظیم میں شامل ہونے کے لیے گھر چھوڑ کر نہیں گیا۔ اجمل عامر کمال کا نام اس فرید کوٹ کے لوگوں کے لیے بھی نیا ہے۔

اس فریدکوٹ میں نہ تو کوئی مدرسہ ہے اور نہ ہی آٹھویں جماعت کے بعد کوئی سکول۔ عام دیہاتوں کی طرح یہ دیہات بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے اور زیادہ تر لوگ ان پڑھ ہیں۔ قصبے میں بولی جانے والی زبان خطے کی سرائیکی زبان سے ہٹ کر ہے اور پنجابی اور سرائیکی کا درمیانی لہجہ سنائی دیتی ہے۔ مقامی لوگ اردو بولنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔

شام کے وقت حقّے کے گرد ایک روایتی دیہاتی محفل میں موجود مقامی لوگوں سے ملاقات کے بعد پتہ چلا کہ عیدیں اور چودہ اور پندرہ اگست کو فرید کوٹ کے مکین تفریح کے لیے پاک بھارت سرحد پر چلے جاتے ہیں اور بھارتی شہر فاضلکے کے لوگوں سے ہاتھ ہلا حال احوال لینے میں خوشی محسوس کرتے ہیں۔

اخباراتممبئی: پاکستانی میڈیا
بھارت کا پاکستان پر الزام زیر بحث
ہیمنت کرکرےہیمنت کون تھے
دہشت گردی کے مقدموں میں اہم کرداروجہۂ شہرت
وار زون ناری من۔۔
حملے کے بعدگھر جنگ کے میدان میں تبدیل
تاج ہوٹلتاج ہوٹل ایکشن
ممبئی حملے: کارروائی کا آخری روز
تاج ہوٹل(فائل فوٹو)’موت کا بلاوا تھا‘
اخلاق اسی روز نوکری ڈھونڈتے ممبئی آیا تھا
ممبئی: کب کیا ہوا
ممبئی میں حملے، کب کیا ہوا؟
ممبئی حملےآپریشن جاری
فوجی کمانڈوز کی کارروائی، تازہ تصاویر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد