ہیمنت کر کرے کون تھے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریاستی حکومت نے پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ایک ایسے جوان کو الوداع کہا جو ایمانداری سچائی اور بیباکی میں اپنی مثال آپ تھا۔یہی ہمت تھی کہ جب حملہ آور اندھا دھند اے کے 56 رائفل سے گولیاں برساتے چلے جارہے تھے اس وقت ہیمنت بلیٹ پروف جیکٹ اور ہیلمیٹ پہن کر آگے بڑھے۔ بدھ کی وہ رات جب دو حملہ آور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے کاما ہسپتال کے پاس جھاڑیوں میں روپوش تھے۔ہیمنت کرکرے ، پولیس انکاؤنٹر کے ماہر وجے سالسکر اور ایڈیشنل پولیس کمشنر اشوک کامٹے کے ہمراہ مزید تین پولیس اہلکار جیپ میں سوار ہوئے۔وہ حملہ آوروں کو پکڑنا چاہتے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ ہیمنت اور اشوک پیچھے بیٹھ گئے۔سالسکر ڈرائیور کو ہٹا کر خود ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھے ان کی جیپ جیسے ہی اس جھاڑی کے قریب سے گزری حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ کی۔ہمینت کو کئی گولیاں لگیں۔ سالسکر کے باڈی گارڈ ارون جادھو کو بھی گولیاں لگیں لیکن وہ زندہ بچ گئے کیونکہ ان پر ہیمنت اور اشوک گر پڑے تھے۔وہ گھنٹوں لاشوں کے بیچ پڑے رہے جب تک پولیس ٹیم انہیں ڈھونڈتے وہاں نہیں پہنچی۔ ہیمنت کرکرے انسداد دہشت گردی عملہ کے سربراہ تھے۔سنیچر کی صبح جب ان کی ارتھی گھر سے شمشان جانے کے لیے نکلی تو راستے کے دونوں جانب سینکڑوں کی تعداد میں لوگ ارتھی کے ساتھ چل رہے تھے ان کی آنکھیں نم تھیں۔ان پر چاروں جانب سے پھولوں کی بارش کی جا رہی تھی۔ لوگ نعرے لگا رہے تھے ’ہیمنت صاحب امر رہے‘ اس وقت وہاں موجود ہر اس صحافی کی انکھیں نم ہوگئیں جو دن رات ہیمنت کو خبریں حاصل کرنے کے لیے پریشان کیا کرتے تھے۔ شمشان میں قدم رکھنے کے لیے جگہ نہیں تھی۔اعلٰی پولیس افسران ہیمنت کے ماتحت پولیس اہلکار اور ان کے دوست، ان میں عام آدمی بھی تھے اور وہ بھی جو انہیں ایک اچھا انسان مانتے تھے۔ ہیمنت محض ایک انتہائی ذہین افسر ہی نہیں ایک بہت ہی نیک دل انسان بھی تھے۔ان کے ماتحت سب انسپکٹر ناصر کلکرنی کہتے ہیں’صاحب حیدرآباد کی مکہ مسجد دھماکے کے بعد سے شاید ہی کبھی ٹھیک سے سو سکے تھے۔انہوں نے ایک دن کی بھی رخصت نہیں لی تھی۔وہ کہتے ہمیں ہمیشہ ایک پروفیشنل کی طرح کام کرنا چاہئے‘ اور ان کی اس بات کو پھر ان کے ہر ماتحت نے مانا۔ وہ مذہب اور ذات پات کی تفریق سے اونچے اٹھ کر سوچنے لگے اور شاید یہی وجہ تھی کہ ’را‘ جیسی تفتیشی ایجنسی میں سات سال کام کرنے کے بعد جب انہیں اس سال جنوری میں اے ٹی ایس کا سربراہ بنایا گیا تو انہوں نے مالیگاؤں دھماکہ کے پیچھے چھپے چہروں کو بے نقاب کیا۔ ناصر کہتے ہیں ’جب میں نے ان کی لاش کو جے جے ہسپتال کے مردہ گھرمیں دیکھا تو احساس ہوا کہ شاید اوپر والے کو ان پر رحم آگیا اور اس لیے اب انہیں ہمیشہ کے لیے سکون اور آرام دے دیا‘۔ میں وہ دن کبھی نہیں بھول سکتی جب خبر آئی کہ اے ٹی ایس نے سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کو گرفتار کر لیا ہے۔خبر کی تصدیق کرنی تھی میں بار بار ہیمنت کو فون کر رہی تھی لیکن وہ میرا فون اٹھا نہیں رہے تھے میں نے تھک کر انہیں ایس ایم ایس کیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد انہوں نے ایس ایم ایس کا جواب دینے کے بجائے خود فون کیا معذرت کی کہ ناسک میں ٹیلی فون لائن کام نہیں کر رہی تھی شاید نیٹ ورک کا مسئلہ تھا۔اس لیے پھر انہوں نے تصدیق کی۔وہ افسر جو میڈیا کے گلیمر سے دور رہ کر خاموشی کے ساتھ کام کرنا پسند کرتے ہوں اگر ان جیسے افسر آپ کو فون کریں تو یہ یقیناً ایک اچھے انسان ہونے کی غمازی کرتا ہے۔ ہیمنت بہت سے لوگوں خاص طور پر مسلمانوں اور سیکولر ذہن رکھنے والوں میں کافی مقبول ہو گئے تھے اور انہوں نے ایسے انتہا پسند عناصر کو بے نقاب کیا جن کے عزائم کے بارے میں زیادہ لوگ نہیں جانتے تھے اور کچھ ہندو انتہا پسند تنظیموں نے ان کے خلاف محاذ کھول رکھا تھا۔ ہیمنت ایسے افسر تھے جنہیں کروڑوں عام مسلمانوں کے ساتھ وہ ملزمین کبھی نہیں بھول سکتے ہیں جن کے دامن پر لگے دھبہ کو ہیمنت کی تفتیش نے دھو دیا۔ |
اسی بارے میں جے پور دھماکوں کی پرزور مذمت13 May, 2008 | انڈیا ممبئی ٹرین دھماکوں کی دوسری برسی 11 July, 2008 | انڈیا دو دھماکے پانچ ہلاک، متعدد زخمی29 September, 2008 | انڈیا سخت قوانین کی ضرورت:انڈین میڈیا15 September, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی مخالف فتوے کی توثیق10 November, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی کے لیےٹاسک فورس‘ 23 November, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||