BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 September, 2008, 20:33 GMT 01:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو دھماکے پانچ ہلاک، متعدد زخمی

فائل فوٹو
شہر میں کشیدگی کی وجہ سے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے
ہندستان کی دو ریاستوں میں پیر کی شب بم دھماکوں میں پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

گجرات میں سابر کانٹھا کے موڈاسا ٹاؤن میں بم دھماکے میں دو افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جبکہ مالیگاؤں میں ایک موٹر سائیکل پر رکھے بم کے پھٹنے اور اس کے بعد پولیس کے ساتھ ہوئی جھڑپ میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

شہر میں کشیدگی کی وجہ سے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

مہاراشٹر پولیس نے مالیگاؤں میں ہوئے دھماکہ کو سلینڈر بم دھماکہ بتایا ہے لیکن عینی شاہدین اور مقامی فاران ہسپتال کے ڈاکٹر عارف احمد سراج احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ہسپتال میں جو زخمی لائے گئے ہیں ان کے زخم دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بم دھماکے میں زخمی ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر عارف کے مطابق ان کے ہپسپتال میں ایک دس سالہ بچی لائی گئی جو زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسی ہے۔دو افراد کی لاشوں کو سرکاری واڈیا ہسپتال بھیجا جا چکا ہے۔

عارف نے مزید بتایا کہ ہسپتال میں دو زخمی لائے گئے ہیں جنہیں پولیس گولی لگی ہے اور تادم تحریر ان میں سے ایک زخمی کا آپریشن جاری ہے۔

مالیگاؤں کے مقامی صحافی عبدالحلیم نے بی بی سی کو بتایا کہ رات ساڑھے نو بجے کے قریب بھکو چوک میں نورانی مسجد کے قریب ایک گاڑی کھڑی تھی۔اس پر کسی نے کچھ دیر پہلے ایک تھیلی رکھ دی جس کے پھٹنے کی وجہ سے وہاں افراتفری مچ گئی۔ کئی افراد زخمی ہوئے۔اس کے بعد بھگدڑ مچ گئی۔

صدیقی کے مطابق پولیس اور وہاں موجود عوام میں جھڑپ ہوئی اور لوگوں نے پولیس پر پتھراؤ شروع کر دیا۔پولیس نے مشتعل عوام کومنتشر کرنے کے لیے فائرنگ کی جس میں کئی افراد زخمی ہوئے۔

ریاستی پولیس سے ملی اطلاع کے مطابق لوگون کے پتھراؤ کی وجہ سے ایڈیشنل ایس پی وشنو پربھو سمیت پانچ پولیس اہلکار اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین سلیم انصاری اور فہیم شہزاد نے مالیگاؤں سے بی بی سی کو فون پر بتایا کہ ان کا گھر بم دھماکہ کی جگہ سے چند فٹ کے فاصلے پر ہے۔تراویح کی نماز ختم ہو چکی تھی اس کے بعد چوک میں لوگ خریداری کر رہے تھے کہ زوردار دھماکہ ہوا۔شہزاد کے مطابق انہوں نے کئی لوگوں کو گرتے دیکھا۔اس کے بعد عوام اور پولیس کے درمیان جھڑپ شروع ہوئی۔

شہزاد کے مطابق پولیس فائرنگ کے بعد شہر میں حالات کشیدہ ہیں۔ساری دکانیں بند کر دی گئی ہیں اور پولیس نے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا ہے۔

مالیگاؤں میں دو سال قبل آٹھ ستمبر کو چار مقامات پر شدید بم دھماکے ہوئے تھے جن میں سینتیس افراد ہلاک اور ایک سو پچیس کے قریب لوگ زخمی ہوئے تھے۔انسداد دہشت گردی عملہ نے ان دھماکوں کے لیے سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا یعنی سیمی کو ذمہ دار قرار دیا تھا۔

ملک میں گزشتہ کچھ عرصہ سے متعدد ریاستوں میں سلسلہ وار دھماکے ہو رہے ہیں۔گجرات کے احمدآباد شہر میں سلسلہ وار دھماکے ہوئے اس کے بعد سورت میں کئی بم ناکارہ کیے گئے۔سنیچر کو مہرولی میں بم دھماکے میں دو افراد ہلاک ہوئے۔اب پیر کے گجرات کے سابر کانٹھا اور مالیگاؤں میں دھماکے نے ملک میں بے چینی کا ماحول پیدا کر دیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد