ای میل ممبئی سے گيا: پولیس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندستان کی ریاست احمد آباد میں ہوئے بم دھماکوں سے قبل نجی ٹی وی چینل کو بم دھماکوں کے بارے میں مبینہ طور پر جو ای میل بھیجا گیا تھا وہ نوی ممبئی سے بھیجا گیا تھا۔ اس کی تصدیق نوی ممبئی پولیس کمشنر رام راؤ واگھ نے بی بی سی سے کی ہے۔لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اس کی مزید تفصیلات انسداد دہشت گردی عملہ کے پاس ہے۔ ذرائع کے مطابق ای میل میں ’انڈین مجاہدین‘ نامی تنظیم نے دھماکوں کے ذمہ داری لی تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ای میل نوی ممبئی کے سانپاڑہ علاقے سے بھیجا گیا تھا۔ای میل دھماکوں سے چند منٹ پہلے بھیجا گیا تھا جس میں کہا گیا ہے’ اگر ہمت ہے تو پکڑ کر دکھاؤ۔‘ ذرائع کے مطابق ای میل میں ویسٹرن ریلوے دھماکوں میں گرفتار ملزمین کے ساتھ برے سلوک کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ دھماکے تین برس قبل گیارہ جولائی کو ویسٹرن ریلوے کی سات لوکل ٹرینوں میں ہوئے تھے جس کے الزام میں ممنوعہ تنظيم سٹوڈنٹ اسلامک موممنٹ آف انڈیا یعنی سیمی کے چند اراکین گرفتار کیے گئے تھے۔ کمشنر واگھ کے مطابق انٹلیجنس اور اے ٹی ایس سے اطلاع ملنے کے بعد انہوں نے سنیچر سے ہی پورے علاقے میں کومبنگ آپریشن اور ناکہ بندی شروع کر دی ہے اور اس میں کچھ مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ البتہ انہوں نے یہ بتانے سے انکار کر دیا کہ جس جگہ سے وہ ای میل روانہ کیا گیا تھا کیا وہاں سے پولیس نے کسی کو گرفتار کیا ہے۔ان کے مطابق اس مرحلے پر وہ میڈیا کے ساتھ کسی بھی طرح کی اطلاعات بانٹنا نہیں چاہتے ہیں۔
اے ٹی ایس کے افسر کے مطابق انڈین مجاہدین نامی تنظیم حال ہی میں سامنے آئی ہے جس نے اترپردیش اور اجمیر میں ہوئے دھماکوں کے بعد ان کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ دریں اثناء نوی ممبئی کےساتھ ہی ممبئی کے بھی دیگر علاقوں میں کومبنگ آپریشن جاری کر دیا ہے۔ شہر میں الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ شہر کی اہم عمارتوں کے علاوہ ایئر پورٹ، ریلوے سٹیشنوں پر بھی بندوبست سخت ہے۔ مہاراشٹر اے ٹی ایس سربراہ ہیمنت کرکرے کے مطابق انہیں ممبئی میں کچھ مشتبہ افراد کی سرگرمیوں کی اطلاع ملی تھی اور اے ٹی ایس عملہ اس پر کارروائی کر رہا ہے۔البتہ انہوں نے کہا کہ عوام کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ذرائع کے مطابق تفتیشی ایجنسیاں ان بم دھماکوں کے لیے سیمی پر شبہ کر رہی ہیں۔ پولیس نے سینٹرل جیل کے اطراف پہرہ سخت کر دیا ہے کیونکہ سیمی کے چیف صفدر ناگوری یہاں قید ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں سیمی اور جن جاگرتی سمیتی ہندو شدت پسند تنظٰم کے وہ اراکین بھی قید ہیں جنہیں تھانے اور مہاراشٹر کے دیگر علاقوں میں بم دھماکوں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اس دوران اے ٹی ایس کے ایڈیشنل پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ کے مطابق بنگلور میں ہوئے بم دھماکوں میں تفتیش میں ساتھ دینے کے لیے دو ممبران پر مشتمل ٹیم بنگلور کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔ |
اسی بارے میں احمد آباد لرز گیا، 16 بم دھماکوں میں 29 ہلاک26 July, 2008 | انڈیا دھماکوں کا مقصد دہشت پھیلانا26 July, 2008 | انڈیا بنگلور ميں دھماکے، دو ہلاک25 July, 2008 | انڈیا بنگلور: دوسرے دن بم ناکارہ بنایا گیا26 July, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||