ہلا کتیں بڑھ گئیں، وزیراعظم کا دورہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
احمد آباد میں سنیچر کی شام کو ہوئے بم دھماکوں کے سلسلے میں پولیس نے تفتیش تیز کر دی ہے اور اس سلسلے میں ایک شخص کوگرفتار کیا گيا ہے۔ اتوار کو فوج نے متاثرہ علاقوں میں فلیگ مارچ کیا تھا اور اطلاعات کے مطابق حالات پوری طرح قابو میں ہیں۔ احمد آباد ميں سنیچر کو یکے بعد دیگرے سولہ دھماکے ہوئے تھے جس میں انچاس افراد ہلاک ہوئے ہیں اور تقریباً ڈیڑھ سو زخمیوں کا شہر کے مختلف ہسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔ پولیس نے جس شخص کو گرفتار کیا ہے اس کا نام عبد العلیم بتایا گيا ہے لیکن پولیس نے یہ بتانے سے انکار کیا ہے کہ دھماکے میں اس شخص کا ہاتھ ہے یا نہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ مذکورہ شخص سے پوچھ گچھ سے کچھ سراغ مل سکتے ہیں۔ پولیس حکام کئی زاویوں سے اس پورے واقعے کی تفتیش کررہے ہیں لیکن دھماکے کے طریقہ کار کی نوعیت سے زیادہ ابھی کوئی اہم سراغ ہاتھ نہیں لگ سکا ہے۔ احمد آباد کے پولیس اہلکاروں نے راجستھان اور بنگلور کی پولیس سے بھی اس بارے میں رابطہ کیا ہے۔ ادھر پیر کے روز وزیراعظم من موہن سنگھ ، کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور وزیر داخلہ شیو راج پاٹل متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے۔ وہ ہسپتال کا بھی دورہ کریں گے جہاں زخمیوں کا علاج چل رہا ہے۔ وقاقی حکومت نے کہا ہے کہ احمد آباد میں حالات مزید خراب نہ ہوں، اس کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ دلی میں وزیر داخلہ شو راج پاٹل کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ ہوئی تھی جس میں دھماکوں کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا تھا۔ بعد میں مسٹر پاٹل نے وزیر اعظم منموہن سنگھ کو صورتحال سے آگاہ کیا تھا۔ اس سے پہلے صدر جمہوریہ پرتیبھا پاٹل اور وزیر اعظم دونوں نے عوام سے صبر و تحمل سے کام لینے کی اپیل کی تھی۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی نے کہا ہے کہ حملہ آوروں کو بخشا نہیں جائے گا اور یہ کہ ’ہمیں دشت گردی کے خلاف لمبی جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘
ادھر، خبررساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق گجرات پولیس نے دھماکوں کے سلسلے میں کلعدم تنظیم اسٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈيا یا سیمی کے ایک کارکن کو گرفتار کیا ہے۔ اس کے علاوہ احمد آباد سے بھی تیس لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے پوچھ گچھ چل رہی ہے۔ پولیس کو سیمی کے اس کارکن کی 2002 کے گجرات فسادات کے سلسلے ميں پہلے ہی سے تلاش تھی۔گرفتار کیے گئے کارکن کا نام عبدالحلیم بتایا گیا ہے۔ گجرات میں سن دو ہزار دو کے فسادات میں سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے تھے جن میں بڑی تعداد مسلمانوں کی تھی۔ گجرات کے دارالحکومت گاندھی نگر میں بھی سکیورٹی کی صورتحال پر میٹنگ ہوئی جس کی صدارت وزیر اعلی نریندر مودی نے کی۔ بعد میں ریاست کے وزیر صحت جے نارائن ویاس نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ ریاستی پولیس دوسری ریاستوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے تاکہ حملہ آوروں کو پکڑا جا سکے۔
انہوں نے یہ واضح کیا کہ پولیس کی رپورٹ کے بغیر کسی بھی تنظیم کی جانب شبہہ کی انگلی نہیں اٹھائی جائے گی۔ صحافی مہیش لانگا کے مطابق پولیس نے سنیچر کی شب سے احمد آباد اور اطراف میں پانچ بم ناکارہ بنائے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ریاست کے شہر سورت میں دو بم ملے ہیں۔ بم ملنے کے بعد حکام نے تمام سنیما ہال بند کرا دیے ہیں۔ بنگلور اور احمدآباد میں سلسلہ وار بم دھماکوں کے بعد ملک کی دیگر ریاستوں ميں ہائی الرٹ کا اعلان کیا گیا ہے۔ پی ٹی آئی کے مطابق ریاست اتر پردیش کے ایڈیشنل ڈائیرکٹر جنرل، لاء اینڈ آرڈر برجلال کا کہنا ہے کہ انہوں نے ریاست کے سبھی اضلاع کے پولیس اہلکاروں کو الرٹ رہنے کو کہا ہے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں خاص چوکس رہنے کو کہا ہے۔ سیمی کےجس کارکن کو گرفتار کیا گیا ہے اس پر الزام ہے کہ وہ گجرات سے نوجوانوں کو پہلے اتر پردیش لے جاتا تھا جہاں سے انہیں تربیت کے لیے سرحد پار بھیجا جاتا تھا۔ ممبئی سے ہماری نامہ نگار ریحانہ بستی والا کے مطابق دھماکوں سے قبل ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کو ’انڈین مجاہدین‘ نامی ایک تنظیم کی جانب سے ایک ای میل بھیجا گیا تھا جس میں ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ یہ ای میل ممبئی سے بھیجا گیا تھا۔ ممبئی پولیس نے نوی ممبئی کے علاقے میں ایک فلیٹ پر چھاپہ مارکر ایک کمپیوٹر ضبط کرلیا ہے جس کا پتہ اسی ای میل کے ذریعے تفتیشی ایجنسیوں نے لگایا تھا۔ احمدآباد بم دھماکوں کے خلاف اتوار کی شام بعض سماجی تنظیموں نے مشترکہ طور پر دلی کے جنتر منتر پر ’کینڈل لائٹ احتجاج‘ کیا ہے جس میں مختلف مذاہب کے افراد نے شرکت کی۔ |
اسی بارے میں احمد آباد لرز گیا، 16 بم دھماکوں میں 29 ہلاک26 July, 2008 | انڈیا دھماکوں کا مقصد دہشت پھیلانا26 July, 2008 | انڈیا بنگلور ميں دھماکے، دو ہلاک25 July, 2008 | انڈیا بنگلور: دوسرے دن بم ناکارہ بنایا گیا26 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||