وفاقی تفتیشی ایجینسی پرغور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان ميں مرکزی حکومت شدت پسندانہ حملوں سے نمٹنے کے لیے ایک مرکزی تفتیشی ادارے کی تشکیل پر غور کر رہی ہے۔ حکومت کی طرف سے اس قسم کا اشارہ وزارت داخلہ کی سینیئر پولیس افسروں کے ساتھ میٹنگ کے بعد دیا گيا ہے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اس کے متعلق صوبوں کے وزراء اعلی سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ کئی صوبوں کے وزراء اعلی نے اس قسم کی مرکزی ایجنسی کی تشکیل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اگر اس قسم کی ایجنسی بنائی جاتی ہے تو حکومت کو نیا قانون بنانے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ موجودہ قانون ميں بعض ترمیم کرنے کے بعد یہ ایجنسی اپنا کام شروع کر سکتی ہے۔ میٹنگ کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیوارج پاٹل نے کہا کہ جانچ کے سلسلے میں گجرات حکومت کو پوری مدد کی جائے گی۔ گجرات بم دھماکوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ تفتیش جاری ہے اور پوری ترجیح باز آبادکاری اور جانچ پر ہوگی۔ میٹنگ میں صوبائی پولیس کی جدیدکاری پر بھی زور دیا گيا اور اعتراف کیا گيا کہ پولیس اہلکاروں کو نئے ساز و سامان بھی مہیا کرائے جائيں اور انہيں ایسے دھماکوں سے نمٹنے کے لیے خصوصی تربیت بھی دی چانی چاہیے۔ |
اسی بارے میں احمد آباد لرز گیا، 16 بم دھماکوں میں 29 ہلاک26 July, 2008 | انڈیا دھماکوں کا مقصد دہشت پھیلانا26 July, 2008 | انڈیا بنگلور ميں دھماکے، دو ہلاک25 July, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||