BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 May, 2008, 10:31 GMT 15:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جے پور: زندگی معمول پر آ رہی ہے

جےپور میں کرفیو
جےپور میں جمعرات کو صبح نو بجے سے شام چار بجے تک کا کرفیو نافذ تھا
جے پور میں دھماکوں کے تین دن گزرنے کے بعد اب آہستہ آہستہ عام زندگی معمول پر آنے کی کوشش کر رہی ہے۔

جن علاقو میں کرفیو نافذ نہیں ہے وہاں اکّا دکا دکانیں کھلی ہیں اور سڑک پر ٹریفک بھی دیکھا جا سکتا ہے۔مختلف علاقوں میں رفتہ رفتہ زندگی معمول پر آ رہی ہے لیکن بیشتر لوگ اب بھی احتیاط برت رہے ہیں۔

جمعرات کو دھماکوں سے متاثرہ علاقوں کا کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور وزیر داخلہ شیو راج پاٹل دورہ کرنے جب پہنچے تو کرفیو کے باوجود بہت سے لوگ گلیوں میں نکل آئے اور بہت سے لوگ چھت پر کھڑے دکھائی دیے۔

ادھر اسپتال میں اب بھی ایک درجن لاشیں پڑی ہیں جن کی شناخت کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوپایا ہے۔

مورچری یا مردہ گھر میں کام کرنے والے وجے شنکر شرما نے بی بی سی کو بتایا ’اب بارہ لاشیں بچی ہیں جس میں بیشتر مندر کے آس پاس بھیک مانگنے والوں کی ہیں، انہی میں ایک لاش بہار کے لڑکے کی ہے جو انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا لیکن اس کے ماں باپ ابھی جے پور پہنچ نہیں سکے ہیں۔‘

اس دوران رات میں ایک اور زخمی کی موت ہوگئی ہے۔ سوائی مان سنگھ ہسپتال کے آئي سی یو کے جہاں ایک زخمی ایسے ہیں جن کے بارے میں ابھی یہ پتہ نہیں چل سکا ہے کہ وہ کون ہیں، کہاں کے ہیں اور کیا کرتے تھے۔

سوائی مان سنگھ ہسپتال میں اب بھی ایک درجن لاشیں پڑی ہیں جن کی شناخت کا عمل ابھی مکمل نہیں ہو پایا ہے۔

آئی سی یو میں ڈیوٹی پر تعینات ڈاکٹر گپتا کا کہنا تھا ’اب اس مریض کی ذرا سی آواز نکلنے لگی ہے اور نام پھوچنے پر سمجھ میں آتا ہے کہ ان کا نام ہمانشو ہے، بعض لوگ اپنے لواحقین کی تلاش میں یہاں پہنچے تھے لیکن ان کے جاننے والا ابھی کوئی بھی نہیں ملا ہے۔‘

کئی لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنے رشتے داروں کو تلاش کر رہے ہیں لیکن انہیں ابھی تک کامیابی نہیں ملی ہے۔

رام ولاس سنائے اپنے بیٹے کی تلاش کے لیے سوائي مان سنگھ اسپتال پہنچے تھے۔ ان کا بیٹا جے پور میں پڑھتا تھا اور منگل سے لاپتہ ہے۔’مورچری میں میں نے جو لاشیں دیکھی ہیں اس میں میرا بیٹا نہیں ہے، میں اسپتالوں میں بھی تلاش کرچکا ہوں لیکن زخمیوں میں بھی پتہ نہیں چلا، سمجھ میں نہیں آرہا کیا کروں۔‘

راجندر سنگھ کہتے ہیں کہ کنٹرول روم سے انہیں فون کیا گیا تھا کہ ان کا ایک رشتہ دار بم دھماکے میں زحمی ہوا ہے جسے وہ ابھی تلاش کر رہے ہیں۔’ اس اسپتال میں تو نہیں ملا ہے، ہم بہت دور سے آئے ہیں اور بڑی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘ سوائی مان سنگھ میں اب صرف چند ہی ایسے زخمی ہیں جن کی حالت نازک ہے اور بیشتر خطرے سے باہر ہیں۔

ان دھماکوں میں سرکار اعدادوشمار کے مطابق 63 افراد ہلاک ہوئے تھے

متاثرہ علاقوں سے باہر دھماکے کا کوئی زیادہ اثر نہیں ہے اور کئی جگہوں پر شاپنگ مالز میں بھیڑ بھی دکھی۔ ایک خیال یہ ہے کہ سیاحت کے لیے مشہور شہر جے پور میں ممکن ہے کہ ان دھماکوں سے سیاحوں کی آمد میں کمی ہوجائے جس کا ابھی تجزیہ آسان نہیں ہے۔

یوروپ سے آئی ایک خاتوں میری نےایک سوال کے جواب میں کہا ’ ہمارا قافلہ بدھ کی صبح ہی جے پور پہنچا تھا، کچھ علاقوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے لیکن سکیورٹی کا کوئی خدشہ کم سے کم ہم لوگوں کو تو بالکل نہیں ہے اور ہم اینجوائے کر رہے ہیں۔‘

آئی پی ایل کرکٹ کا جے پور میں ہونے والا اگلا میچ بھی اپنے شیڈول کے مطابق کھیلا جائےگا۔ امپائر سمیت بعض کرکٹ کھلاڑی ہوٹل میں نظر آئے اور ہوٹل کی انتظامیہ نے بتایا کہ جے پور کی ٹیم اسی ہوٹل میں آکر ٹھہری ہے۔

متاثرین دھماکوں کے متاثرہ
دھماکوں کے خوفناک منظر کو یاد کرتے ہوئے
جے پورشہر تھم سا گیا۔۔
دھماکوں کے بعد کا جے پور سہما سہما
پریسپریس کے اشارے
حرکت الجہاد اور لشکر طیبہ پر شک
ملنروٹی کے رنگ
نیپال سے انڈيا ملازمت کی تلاش میں آیا اور۔۔۔
غصہ مسلمانوں پر
جے پور دھماکوں کے بعد کشیدگی
سبحانہ خانسبحانہ کی کہانی
جے پور دھماکوں میں اماں، خالائیں ہلاک
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد