BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 May, 2008, 21:42 GMT 02:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اب کہاں جائيں۔۔۔۔

ملن
ملن ملازمت کی تلاش میں نیپال سے ہندوستان آئے تھے
ملن نیپال کے رہنے والے ہيں۔ ایک مہینے قبل ہی وہ جےپور آئے تھے اور منگل کو ہونے والے بم دھماکوں میں زخمی ہونے کے بعد آج وہ سوائے مان سنگھ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ملن کی کہانی آپ کو اس لیے سنا رہا ہوں کیوں کہ ملن چھوٹی چوپڑ تھانے میں کھانا پکانے کا کام کرتے ہيں۔ وہ سب کے لیے روٹی پکاتے ہیں اور ’جےپور کی حفاظت ‘ کرتے ہیں۔

منگل کو پولیس تھانے کے نزدیک جب دھماکہ ہوا تو ملن بھی اس کی زد میں آ گئے جس کے بعد انہیں بعض انجان ہاتھوں نے اسپتال تک پہنچایا۔

لیکن دھماکے کے کئی گھنٹے گزرنے کے بعد بھی اس پولیس تھانے کا کوئی پولیس اہلکار یا افسر ملن کا حال جاننے نہیں آیا۔ اور نہ ہی اس کی دوا - پانی کی خیر خبر لینے پہنچا۔

اہلکاروں کی جانب سے ملن سے ایسا کوئی وعدہ بھی نہيں کیا گیا ہے کہ اس دھماکے میں زخمی ہونے کے بعد تھانے کی جانب سے کوئی مدد فراہم کی جائے گی۔

اور ملن سرکاری دوائیاں، ٹانکوں، بہتے زخم اور کسی سماجی تنظیم سے حاصل ہونے والے بسکٹ کے پیکٹز کو سرہانے رکھ کر اپنے حال پر آنسوں بہا رہا ہے۔

ملن کا درد
 نیپال میں گاؤں کے حالات بہت خراب تھے، آمدنی کی تلاش میں اتنی دور نیپال سے ہندوستان آئے تھے۔ اب وہاں کیا ہے جو واپس جائیں۔ وہاں سے ہی تو مجبور ہو کر یہاں آئے تھے۔
ملن کے رشتے کے بھائی، کمل

ملن ابھی بات چیت کرنے کی حالت میں نہيں ہے۔ ان کے ایک دور کے رشتےدار کمل ہیں جو اسے جےپور لائے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ جب انہیں ملن کے زخمی ہونے کی خبر ملی تو وہ فوری طور پر دوڑ کر اسپتال پہنچے۔ وہاں انہوں نے پایا کہ وہ بنا کپڑے ، خون میں لت پت، وارڈ کے باہر برامدے میں فرش پر پڑا ہوا ہے۔ کمل نے ہی انہیں بعد میں اسپتال میں داخل کروایا۔

لیکن دونوں اس قدر ڈرے ہوئے ہیں کہ ابھی تک انہوں نے ملن کے خاندان والوں کو اس حادثے کی اطلاع تک نہيں دی ہے۔ کمل بتاتے ہیں ’ نیپال میں گاؤں کے حالات بہت خراب تھے، آمدنی کی تلاش میں اتنی دور نیپال سے ہندوستان آئے تھے۔ اب وہاں کیا ہے جو واپس جائیں۔ وہاں سے ہی تو مجبور ہو کر یہاں آئے تھے‘۔

لیکن کم از کم ان پولیس والوں سے تو کوئی مدد مانگی ہوتی جہاں یہ کام کرتے ہيں ۔ ملن نے بتایا کہ انہیں فون کرنے پر بھی کسی نے فون نہيں اٹھایا، بس انہيں خبر کر دی تھی کہ ملن زخمی ہو گیا ہے۔

جسم پر آئے زخم سے زیادہ ملن کے چہرے پر اس بات کی فکر نظر آتی ہے کہ اہپتال سے تو وہ کچھ دنوں سے باہر آ جائے گا لیکن ابھی کیا کیا دیکھنا باقی ہے۔ روٹی ابھی کیا کیا رنگ دکھائے گی۔

تو کیا شاید یہی وہ مجبوری ہے جو ملک اور دنیا کے کئی حصوں میں دہشتگرد حملوں اور قدرتی آفت کا سامنا کرنے والے عام آدمی کو پھر سے پٹڑی پر چلنے کے لیے، درد پینے پر مجبور کرتی ہے؟

جے پور میں دھماکےجے پور میں دھماکے
چھ مقامات پر یکے بعد دیگرے سات دھماکے
دھماکوں کی تاریخ
انڈیا میں چند برس میں ہونے والے دھماکے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد