BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 May, 2008, 22:13 GMT 03:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جے پور شہر تھم سا گیا ہے

دھماکوں کے بعد کا ایک منظر
دھماکوں کے بعد شہر کے لوگ ڈرے ہوئے ہیں
مغربی ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پورمیں دھماکوں کے بعد اداسی سی چھا گئی ہے اور پورا شہر لگتا ہے تھم سا گیا ہو۔ لوگ باہر ضرور نکلے لیکن لوگوں کی مشکلات اور پریشانیاں ان کے چہروں پر عیاں تھیں اور شہر میں ہو کا عالم ہے۔

بڑی چوپڑ کے کے نواسی گورو کہتے ہیں۔ ’شام کو بازار میں بڑی چہل پہل تھی اور میں بھی گھر سے باہر نکلا تھا لیکن دھماکہ ہوتے ہی ایسی بھگدڑ مچی کہ دہشت کا عالم تھا۔ بعض زخمی تو اٹھ ہی نہیں پائے اور بعض اٹھے اور پھر کر گئے، لمحوں میں ہی جسم کے اعضاء اور خون زمین پر بکھرے پڑے تھے۔‘

بم دھماکوں کے ان مناظر سے صرف پرانا شہر ہی متاثر نہیں ہوا جہاں یہ ہوئے ہیں بلکہ اس کا اثر مختلف گوشوں پر پڑا ہے۔ اداسی کا سب سے بڑا منظر سوائی مان سنگھ ہسپتال میں دیکھنے کو ملا جہاں لوگوں کا تانتا بندھا رہا۔ لوگ اپنے لواحقین کی لاشوں کی شناخت کے لیے آرہے تھے اور بہت سے لے جاتے وقت زار و قطار رو رہے تھے۔

گورو کا کہنا ہے کہ دھماکے کےبعد دہشت کا ماحول ہوگیا ہے

جگدیش کا کہنا تھا کہ ان کی ایک کزن دھماکے میں نہیں رہی جس کی لاش کی شناخت کے لیے وہ ہسپتال آئے۔’میری کزن بازار گئی تھیں اور پھر واپس نہیں آئیں، اسی کو لینے آئے ہیں۔ اب کیا کہوں لگتا ہے شہر جے پور کو بھی نظر لگ گئی ہے‘۔

سترہ برس کے پنکج کو ہوش آنے کے بعد ایمرجنسی سے دوسری جگہ منتقل کیا جا رہا ہے۔ پنکج کا تعلق بہار سے ہے اور وہ گھروں میں صفائی کا کام کرتے ہیں۔’میں نے منگل کا ورت رکھا تھا اور شام کو چاند پور والا مندر میں پوجا کرنے گیا تھا ، مندر کے پاس سائیکل کھڑی کر ہی رہا تھا کہ دھماکہ ہوا اور میں اسی کے ساتھ اڑ گیا، تب سے مجھے اب ہوش آیا ہے‘۔

رتو راؤت اپنے پاپا کی صحت کے لیے باہر بیٹھی رور رو کر دعا کر رہی تھیں۔ کہنے لگیں’ بس ان کو ہوش آجائے کسی طرح باقی سب ٹھیک ہوجائےگا، انہوں نے کسی کا کیا بگاڑا تھا‘۔

دھماکوں کے بعد جے پور کی زندگی قدر خاموش ہے۔ شہر کو بھیانک بم دھماکوں کی چوٹ لگی ہے اور لوگ ہلاکتوں اور زخیموں کے دکھ میں ڈوبے ہیں۔ عوام میں خوف کی لہر دوڑ ی ہے لیکن جینے کا حوصلہ ٹوٹا نہیں ہے۔

جے پور میں دھماکےجے پور میں دھماکے
چھ مقامات پر یکے بعد دیگرے سات دھماکے
دھماکوں کی تاریخ
انڈیا میں چند برس میں ہونے والے دھماکے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد