BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 May, 2008, 04:04 GMT 09:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جے پور:دھماکوں کے بعد کرفیو نافذ

جے پور دھماکے
کرفیو سے فرقہ وارانہ کشیدگی کو روکنے میں مدد ملی ہے
بھارت کی ریاست راجستھان کے شہر جے پور میں حکام نے گزشتہ روز ہونے والے بم دھماکوں کے بعد حالات پر قابو پانے کے لیے بدھ کو دھماکوں سے متاثرہ علاقے میں صبح نو بجے سے شام چھ بجے تک کے لیے کرفیو نافد کر دیا ہے۔

پولیس حکام کے مطابق جن جگہوں پر دھماکے ہوئے ہیں وہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کی ملی جلی آبادی ہے اور کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے۔ منگل کی شام ہونے والے ان دھماکوں میں تریسٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ حکام کے مطابق کرفیو جے پور کے پندرہ تھانوں کی حدود میں نافذ رہے گا۔

بدھ کی صبح بڑی تعداد میں شہریوں نے متاثرہ مقامات کی جانب جانے کی کوشش کی تو پولیس حکام نے لاؤڈسپیکرز کے ذریعے انہیں واپس جانے کو کہا اور مطلع کیا کہ علاقے میں کرفیو نافذ ہے اس لیے لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔

ان اعلانات کے بعد سکیورٹی اداروں کے جوانوں نے متاثرہ علاقوں کی طرف جانے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دیں جس کے بعد صرف متعلقہ حکام کو ان علاقوں تک رسائی کی اجازت ہے۔

ادھر منگل کی شام ہونے والے سات سلسلہ وار بم دھماکوں کے بعد جے پور شہر میں سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور شہر کے مختلف علاقوں میں پولیس اور ریپڈ ایکشن فورس کے جوان تعینات ہیں۔ یاد رہے کہ دھماکوں کے فوراً بعد ریاستی حکام کی درخواست پر مرکزی حکومت نے ’ریپڈ ایکشن فورس‘ کی دو کمپنیاں جے پور بھیج دی تھیں۔

متاثرہ علاقوں تک صرف متعلقہ حکام کو رسائی ہے

تاحال کسی گروہ یا تنظیم کی جانب سے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے اور پولیس حکام کا بھی کہنا ہے کہ اس بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ منگل کو رات گئے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے راجستھان کے آئی جی کہنیا لال نے کہا کہ تاحال یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ کس گروہ کا کام ہے اور اس حوالے سے تفتیش جاری ہے۔

مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ شری پرکاش جیسوال نے ان دھماکوں کو ایک بڑی سازش قرار دیا ہے جبکہ بھارتی وزیرِاعظم من موہن سنگھ نے لوگوں سے پرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔ کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی اور دیگر کئی رہنماؤں نے ان دھماکوں کی مذمت بھی کی ہے۔

ریاست کی وزیراعلی وجے راجے سندھیا دھماکے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین کو پانچ پانچ لاکھ روپے جبکہ زخمیوں کوایک ایک لاکھ روپے بطور معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے۔

جے پور جسے’گلابی شہر‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے بھارتی ریاست راجستھان کا اہم سیاحتی مقام ہے جہاں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ ریاست راجستھان میں بم دھماکوں کا واقعہ پیش آیا ہو اور اس سے قبل ریاست میں گزشتہ برس اکتوبر میں اجمیر میں واقع خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ میں دو دھماکے ہوئے تھے جس میں دو افراد ہلاک اور چودہ زخمی ہوئے تھے۔

جے پور میں دھماکےجے پور میں دھماکے
چھ مقامات پر یکے بعد دیگرے سات دھماکے
دھماکوں کی تاریخ
انڈیا میں چند برس میں ہونے والے دھماکے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد