BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 14 May, 2008, 12:55 GMT 17:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جے پور: دل دہلانے والا منظر

جے پور اسپتال میں ایک مریض
شہر میں کرفیو،اسپتال میں زخمیوں کی چیخیں، اور لاشوں کی شناخت جاری ہیں
جے پور کراہ رہا ہے، درد سے اور بےوجہ، بن بتائے ملی اس چوٹ سے بھی۔

گلابی شہر جےپور کی کئی سڑکیں، چوراہے لہو لہان ہیں۔ روایت، ثقافت اور تاریخی اثاثوں کا شہر شدت پسندوں کے حملوں سے داغدار ہوگیا ہے۔

منگل کے دن ہوئے دھماکوں کے بعد یہاں خون تو بہا ہی، اب یہاں حملوں کے بعد کا ڈر، درد اور سناٹا چھایا ہوا ہے۔

اسی درمیان پولیس کی تیز رفتار سے گشت کرتی گاڑیاں بھی نظر آرہی ہیں۔

دھماکوں کے بعد جب زخمیوں کی حالت اور مرنے والوں کی تعداد جاننے کے لیے میں جےپور کے سوائی مان سنگھ ہسپتال میں داخل ہوا تو سامنے جو سب سے پہلی چیز دکھی وہ تھی مرنے والوں اور زخمیوں کی فہرست۔

لوگ جتنے غور سے فہرست میں اپنوں کا نام ڈھونڈ رہے تھے شاید اس سے بھی زیادہ دل ہی دل میں وہ دعا کر رہے ہوں گے کہ اس فہرست میں ان کے اپنوں کا نام نہ ہو اور وہ فہرست سے باہر صحیح سلامت ہوں۔

ہسپتال کے اندر وارڈوں میں زخمی لیٹے ہوئے تھے اور درد سے کراہ رہے تھے۔

اس کراہٹ میں بعض ’رام رام‘ کہہ رہے تھے اور بعض ’اللہ اللہ‘۔ دھماکے کرنے والوں کا مذہب کیا تھا کسی کو نہیں معلوم۔

ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ میڈیکل سٹوڈینٹ بھی مریضوں کی مدد کے لیے بھاگتے دکھائی دے رہے تھے۔

بچے، سکول اور کالج جانے والے طلباء، پجاری، تاجر، مزدور، ایسی الگ الگ پہچان والوں کی ایک ہی پہچان تھی اور وہ یہ کہ یہ سب حملوں کے شکار تھے۔ سب کا درد ایک ہی تھا۔

اسی دوران بڑی تعداد میں میڈیا کے لوگ بھی وہاں موجود تھے۔ زخمیوں کی تکلیف سے زیادہ وہ اپنی کوریج پر دھیان دے رہے تھے۔

بعض زخمیوں اور مرنے والوں کے رشتہ داروں نے ہمارے ہاتھ میں مائیک اور کیمرا دیکھا اور بول پڑے ’ہمیں معاف کیجیے ہم تکلیف میں ہیں۔‘

سب سے تکلیف دہ منظر مردہ خانے کا تھا۔ یہاں ایک کے بعد ایک لاشوں کو نکالا جا رہا تھا اور پہچان کی جا رہی تھی۔ کسی کو اپنا بیٹا نہیں مل رہا تھا تو کسی کی ماں ابھی تک گھر نہیں پہنچی تھی۔

رونے کی آوازیں، لاشوں کو لے جانے والی گاڑیوں کے سائرن سے سارا سماں غم گین تھا۔

دھماکے گزشتہ شام ہوئے تھے لیکن شہر کے لوگ جائے وقوعہ پر آ رہے ہیں لیکن پولیس نے شہر میں کرفیو نافذ کر دیا ہے اور شہر میں سناٹا چھایا ہے۔

جے پور میں دھماکےجے پور میں دھماکے
چھ مقامات پر یکے بعد دیگرے سات دھماکے
دھماکوں کی تاریخ
انڈیا میں چند برس میں ہونے والے دھماکے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد