BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 27 July, 2008, 08:11 GMT 13:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
احمدآباد دھماکے، پینتالیس ہلاکتیں
احمدآباد دھماکے
لگ بھگ ایک سو افراد زخمی ہوئے ہیں
ہندوستان کی ریاست گجرات کے شہر احمد آباد ميں سنیچر کو یکے بعد دیگرے ہونے والے سولہ دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد پینتالیس تک پہنچ گئی ہے جبکہ سو سے زائد افراد زخمی ہیں۔

اتوار کے روز ریاستی نائب وزیر داخلہ امیت شاہ نے بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد پینتالیس ہے۔ اس سے قبل دھماکوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے قائم کیے گئے سرکاری کنٹرول روم اور پولیس حکام نے اڑتیس ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔

نائب وزیر داخلہ امیت شاہ نے بتایا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ بعض زخمی افراد کی حالت نہایت نازک بتائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا: ’احمدآباد کے سول اور وی ایس ہسپتال کے ڈاکٹر کہہ رہے ہيں کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ابھی تک 45 اموات ہوچکی ہے۔‘

غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کی تعداد پچاس تک پہنچ گئی ہے۔ احمدآباد میں صحافی مہینش لانگہ کے مطابق سلسلے وار بم دھماکوں میں سب سے زیادہ نقصان سول ہسپتال میں ہوا تھا جہاں دس جانیں ضائع ہوئیں۔

صحافی مہیش لانگا کے مطابق احمد آباد بم دھماکوں کے پیش آنے کے بعد پولیس نے پانچ بموں کو احمد آباد اور اطراف کے علاقوں میں ناکارہ بنایا ہے۔ پولیس نے سنیچر کی رات دو بموں کو ناکارہ بنایا تھا جبکہ اتوار کو دو پہر تک تین بموں ناکارہ بنایا جا چکا ہے۔

ادھر اطلاعات کے مطابق ریاست کے شہر سورت میں دو بم ملے ہیں۔ بم ملنے کے بعد حکام نے تمام سنیما ہالز کو بند کردیے ہیں۔

فی الوقت احمد آباد کے سول ہسپتال اور وی ایس ہسپتال میں سو سے زیادہ زحمی بھرتی ہیں۔ صوبے کے وزیر صحت جے نارائین ویاس نے سینیئر ڈاکٹروں کی میٹنگ کی ہے اور کہا ہے کہ زخمیوں کے علاج میں کوئی کمی نہ چھوڑی جائے۔

احمدآباد کرائم برانچ، جو ان دھماکوں کی تفتیش کر رہا ہے، کا کہنا ہے کہ سول ہسپتال کے دھماکوں میں ممکنہ طورپر آر ڈی ایکس کا استعمال کیا گيا ہے۔ کرائم برانچ نے خود کش بم حملے کا بھی خدشہ ظاہر کیا ہے۔ کرائم برانچ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس ابھے چودسامہ کا کہنا ہے کہ پولیس ٹیم سبھی دھماکے کے مقامات کا معائنہ کرے گي تاکہ شواہد اکٹھا کیے جاسکے۔

احمد آباد دھماکے
دھماکوں میں سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں
ممبئی سے ہماری نامہ نگار ریحانہ بستی والا کے مطابق دھماکوں سے قبل ایک نجی ٹیلی ویژن چینل کو ’انڈین مجاہدین‘ نامی ایک تنظیم کی جانب سے ایک ای میل بھیجا گیا تھا جس میں ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔

یہ ای میل ممبئی سے بھیجا گیا تھا۔ ممبئی پولیس نے نوی ممبئی کے علاقے میں ایک فلیٹ پر چھاپہ مارکر ایک کمپیوٹر ضبط کرلیا ہے جس کا پتہ اسی ای میل کے ذریعے تفتیشی ایجنسیوں نے لگایا تھا۔

بھارت کی صدر پرتیبھا پاٹل اور وزیراعظم منموہن سنگھ نے عوام سے پر سکون رہنے کی اپیل کی ہے جبکہ احمد آباد میں بی بی سی کے نمائندے کے مطابق عوام خوف و ہراس کا شکار ہیں اور گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔

بھارت کی صدر نے اپنے بیان میں عوام سے کہا ہے کہ وہ امتحان کی اس گھڑی میں ثابت قدمی کا مظاہرہ کریں اور امن و امان قائم رکھیں۔ یاد رہے کہ احمد آباد میں سنہ 2002 کے اوائل میں ہونے والے ہندو مسلم فسادات میں سینکڑوں افراد مارے گئے تھے۔

سنیچر کو ہونے والے دھماکوں کا نشانہ عوامی مقامات، پبلک ٹرانسپورٹ اور وہ ہسپتال بنے جہاں دھماکوں کے زخمیوں کو لایا گیا تھا۔ یاد رہے کہ یہ بھارت میں گزشتہ دو دن میں سلسلہ وار دھماکوں کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل جمعہ کو بنگلور میں سات سلسلہ وار دھماکے ہوئے تھے تاہم ان دھماکوں میں صرف ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔

دھماکوں کے بعد سنیچر کی شام احمد آباد میں صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے نریندر مودی نے کہا تھا کہ ’ملک کے دشمنوں نے مہاتما گاندھی کی زمین کو خونریز کر دیا ہے۔ دہشت گردوں نے ہندوستان کے خلاف جنگ کا سلسسلہ چلایا ہے اور یہ پورا عمل انسانیت کے خلاف ایک دشمنی کا نتیجہ ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ملک کے مختلف مقامات پر ایک ہی نوعیت کے دھماکے ہو رہے ہیں، تو کوئی نہ کوئی ماسٹرمائنڈ گرپ یا ملک، اس کو آپریٹ تو ضرور کر رہا ہے اور اس کے نتیجے میں ایک ہی قسم کی ’موڈس اپرینڈی‘ (طریقہ کار) استعمال میں لایا جا رہا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ گجرات سرکار انسانیت کے دشمنوں کو تلاش کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گي اور گجرات کی ترقی مزید تیز کر کے دہشتگردوں کو جواب دیا جائے گا۔

دھماکے
کسی بھی تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمےداری قبول نہیں کی ہے
دریں اثناء مرکزی وزیر داخلہ شوراج پاٹل نے دلی میں صحافیوں نے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس معلومات ہیں لیکن وہ ابھی اسے عام نہیں کر رہے ہیں۔انہوں نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان دھماکوں کا شکار ہوئے افراد کے لواحقین کے لیے ان کی پوری ہمدردی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ فی الوقت کسی بھی قسم کی الزام تراشی صحیح نہیں ہے۔وزير داخلہ نے بتایا کہ اتوار کو ایک مینٹگ طلب کی گئی ہے جہاں ان دھماکوں کے بارے موصول ہوئی اطلاعات کا تجزیہ کیا جائے گا۔

احمدآباد کے سینیئر صحافی اجے امٹھ نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا یہ دھماکے باپو نگر، منی نگر، ایسان پور ، سارکیھج، نارول ، رائے پور، سارنگ پور اور سنگم سنیما علاقوں میں ہوئے۔ ان کے مطابق ان علاقوں میں بیشتر مزدوروں کی آبادی تھی جہاں کافی مسلمان بھی رہتے ہیں۔اجے امٹھ نے بتایا ہے کہ اب تک کسی بھی تنظیم نے ان دھماکوں کی ذمےداری قبول نہیں کی ہے۔

گجرات کے گاندھی نگر سے رکن پارلیمان اور حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما لال کرشن اڈوانی نے ٹی وی چینلوں سے بات چیت کے دوران کہا ہے کہ بنگلور اور احمدآباد میں ایک کے بعد ایک دھماکوں سے ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی سازش کا حصہ ہو سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ فی الوقت کسی بھی قسم کے امکانات صحیح نہیں ہوں گے لیکن یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے۔انہوں نے ریاستوں سے دہشتگردی کے خلاف قانون (پوٹا) کو جلد سے جلد منظور کرنے کی اپیل کی ہے۔

اخباراتاحمد آباد دھماکے
سلسلہ وار دھماکوں پر انڈین اخباروں کی رائے
احمد آباد دھماکے(فائل فوٹو)دھماکے کے عینی شاہد
’بس رکی تو افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا‘
 بنگلور دھماکےبنگلور دھماکے
دھماکوں کا مقصد شہر میں دہشت پھیلانا تھا
سبحانہ خانسبحانہ کی کہانی
جے پور دھماکوں میں اماں، خالائیں ہلاک
جے پور تین دن بعد
زندگی بتدریج معمول کی طرف لوٹ رہی ہے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد