BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 23 November, 2008, 10:33 GMT 15:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’دہشتگردی کے لیےٹاسک فورس‘
وزیراعظم منمو ہن سنگھ
منموہن سنگھ پردہشتگردی سے نمٹنے میں نرم رویہ اختیارکرنےکاالزام ہے۔
وزیراعظم منموہن سنگھ نےایک ایسی ٹاسک فورس بنانے کی تجویز پیش کی ہے جو دہشت گردی، نکسلواد، اور شورش جیسے ابھرتے چیلنچز سے نمٹنے کے لیے آئندہ سو دن کے اندر منصوبہ سازی کا کام کر سکے۔

دلی میں ملک کے اعلٰی پولیس اہلکاروں کی ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ٹاسک فورس قومی سلامتی کے مشیر کے ماتحت کام کر سکتا ہے جس میں سبھی ریاستوں کی برابرکی نمائندگي ہو۔

وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ ’میں ایک ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز رکھتا ہوں جو سو روز کے اندر ماؤنواز، دہشت گردی اور شورش جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک متحدہ منصوبے کو تیار کرنے کا کام شروع کرے گا۔‘

انہوں نے کہا کہ اس ٹاسک فورس کو ایک نیٹ سینٹر ک اطلاعاتی کمانڈ تیار کرنے کی ضرورت ہے جس سے مرکزی اور ریاستی ایجنسیز کو محفوظ طریقے سے مناسب وقت پراطلاعات مل سکیں اور ان کا استعمال بھی بخوبی ہوسکے۔

وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ’ ٹاسک فورس کو سو روز کے اندر ایک روڈ میپ تیار کرنا چاہیے اور پھر بعد کے چند مہینوں میں ایک ایسی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے جس سے نیٹ سینٹرک صلاحیتیں حقیقی معنوں میں کام کرسکیں۔‘

دلی میں انٹلیجنس بیورو نے ڈائریکٹر جنرل اور انسپکٹر جنرل کی دو روزہ سالانہ کانفرنس کا انعقاد کیا ہے جس میں سبھی ریاستوں کے تمام بڑے پولیس افسران، پیرا ملٹری فورسز اور سکیورٹی ایجنسیز کے اہلکار شرکت کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد