BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 26 September, 2008, 22:59 GMT 03:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تمام مسائل کا حل بات چیت سے‘

من موہن سنگھ نے پاکستان میں جمہوریت کی واپسی کا خیر مقدم کیا
بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے پاکستان میں جمہوریت کی واپسی کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ جموں و کمشیر سیمت تمام مسائل بات چیت کے ذریعےحل کرنا چاہتا ہے۔

جمعہ کی سہ پہر اقوام متحدہ کی جنرل اسبملی کے سالانہ تریسٹھویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے وزیرِ اعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ دہشتگردی کیخلاف عالمی کنونشن کا اجراء کرے۔

بھارت کے وزیر اعظم کی تقریر کے موقع پر اقوام متجدہ کے صدر دفاترکے باہر نیویارک اور قریبی ریاستوں سے کئي کشمیری اور پاکستانی گروپوں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ’سیکورٹی ایجینسوں اوردیگر ریاستی اداروں کے ہاتھوں کشمیریوں پر ہوانیوالے تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں‘ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ ان مظاہروں میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق وزیر اعظم بیرسٹر سللطان محمود کی بھی شرکت کا اعلان کیا گيا تھا۔

نیویارک سے شائع ہونیوالے پاکستانی اخبارات میں ایسے احتجاج کے اشتہاروں میں ان کی تصاویر کیساتھ کشمیری رہنما میر واعظ عمر فاروق اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم سردار عتیق کو بھی اقاوم متحدہ میں بھارتی وزیر اعظم کے خطاب کے موقع پر احتجاجی مظاہے میں شرکت کی اپیلیں کی گئي تھیں۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں من موہن سنگھ نے عالمی برادری سے کہا کہ وہ افغانستان کی حالیہ صورتحال کا نوٹس لے اور افغانستان کو ایک جہموری اور خود مختار ملک مانتے ہوئے اسکی تعمیرِ نو میں بھرپور مدد کرے۔

بھارتی وزیر اعظم کی تقریر میں پاکستان میں میریٹ ہوٹل پر ہونیوالے دہشت گرد حملے یا اسکی مذمت کا کوئي ذکر نہیں تھا۔
لیکن ان کے خطاب سے قبل مالٹا کے وزیر عظم نے بھی پاکستان میں میریٹ ہوٹل پر ہونیوالے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانی حقوق پر حملہ قراردیا۔

وزیر اعظم من موہن سنگھ نے اپنے خطاب میں اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

انہوں ن عالمی معاشی بحران پر تشویش کا اظہار کوتے ہوئے کہا کہ گلوبل اقتصادیات میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت ہے اور بھارت اس سلسلے میں عالمی برادری کی مدد کرنے کو تیار ہے۔ انہوں نے کسی بھی ملک کا نام لیے بغیر کہا کہ نیوکلیئر صلاحیت پر عالمی براردی کا رویہ سب سے منصفانہ اورغیر امتیازی ہونا چاہیے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد