BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 28 September, 2008, 15:37 GMT 20:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منموہن سنگھ فرانس کے دورے پر
 منموہن سنگھ
منموہن سنگھ امریکہ سے واپسی پر فرانس پہنچے ہیں
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ فرانس کے دو روزہ دورے پر ہیں جہاں وہ انڈیا-یورپی یونین سربراہی اجلاس میں حصہ لیں گے۔ یہ اجلاس فرانس کے شہر مارسے میں پیر کو منعقد ہورہا ہے۔

منگل کے روز منموہن سنگھ پیرس پہنچیں گے جہاں یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ وہ اور فرانسیسی صدر نکولا سرکوزی فرانس اور ہندوستان کے درمیان سوِل ایٹمی معاہدے پر دستخط کریں گے۔

امریکی کانگریس کے دارالنمائندگان نے سنیچر کو انڈیا-امریکہ ایٹمی معاہدے کو منظوری دیدی تھی جس کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ امریکی سینیٹ بھی اس معاہدے کی چند دنوں کے اندر منظوری دے دے گا۔

پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یورپی یونین اور فرانس دونوں ہی ہندوستان کے ساتھ تعلقات بڑھانے پر زور دے رہیں جس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اس سے یورپی یونین اور فرانس کو ہندوستان کے ساتھ تجارت بڑھانے میں مدد ملی گی۔ جبکہ دوسری وجہ یہ کہ ہندوستان دنیا کے ایک غیرمستحکم علاقے میں کافی اہمیت رکھتا ہے۔

دورے کی اہمیت
 یورپی یونین اور فرانس دونوں ہی ہندوستان کے ساتھ تعلقات بڑھانے پر زور دے رہیں جس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ یورپی یونین اور فرانس کو ہندوستان کے ساتھ تجارت بڑھانے میں مدد ملے گی، جبکہ دوسری وجہ یہ کہ ہندوستان دنیا کے ایک غیرمستحکم علاقے میں کافی اہمیت رکھتا ہے۔
فرانس جو کہ یورپی یونین کا موجودہ سربراہ ہے ہندوستان سے یورپی ممالک کے تعلقات کے فروغ میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ فرانسیسی شہر مارسے میں ہونے والے انڈیا-یورپی اجلاس میں ایک آزاد تجارت کے معاہدے کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ اس تجارتی معاہدے پر اس سال کے اختتام تک دستخط ہوجائے گا۔

یورپی یونین کی یہ کوشش بھی ہے کہ گلوبل وارمِنگ یعنی ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کی کوششوں میں ہندوستان کو شامل کیا جاسکے گا۔

جبکہ ہندوستان کی جانب سے توقع ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ مارسے اجلاس کے دوران اپنے ملک کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنائے جانے کے لیے حمایت اکٹھا کریں گے۔ اس موضوع پر یورپی یونین کی حمایت اہم سمجھی جارہی ہے۔

منگل کے روز منموہن سنگھ فرانسیسی صدر نکولا سرکوزی اور وزیر اعظم فانسواں فیلوں سے پیرس میں مذاکرات کرنے والے ہیں۔ منموہن سنگھ کے ساتھ تاجروں کا ایک بڑا قافلہ بھی موجود گا۔

فرانس اور ہندوستان کے درمیان سِول ایٹمی تعاون کے معاہدے پر دستخط ہوجانے کے بعد ایٹمی توانائی کی فرانسیسی کمپنیوں کے لیے ہندوستان سے اربوں ڈالر کے معاہدہ ممکن ہونگیں۔

چونکہ ہندوستان کی معیشت تیزی سے بڑھ رہی ہے اس لیے منموہن سنگھ کی حکومت ایٹمی توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ اس میں امریکہ اور فرانس کی کمپنیوں کو تجارت کے اہم مواقع دکھائی دے رہے ہیں۔

اب تک ایٹمی توانائی کے شعبے میں ہندوستان کے لیے تجارت ناممکن تھی۔ لیکن حال ہی میں امریکہ اور ہندوستان کے درمیان طے پانے والے ایٹمی معاہدے کے ساتھ ہی یہ رکاوٹ ختم ہوگئی ہے کیونکہ اس معاہدے کے تحت ہندوستان نے اقوام متحدہ کے ایٹمی ادارے آئی اے ای اے کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا ہے جس کے تحت ہندوستان کے چودہ ایٹمی ریکٹرز عالمی نگرانی میں ہونگیں۔

بھابھا اٹامک سنٹرایٹمی معاہدہ کیوں؟
یورنئیم کی کمی انڈیا کے لئے ایک مسئلہ
معاہدے کا سفر
تنازعات کا شکار ہند امریکہ جوہری معاہدہ
یشونت سنہاسیاسی ردِ عمل
’جوہری تجربے کا حق ہمیشہ کیلیے کھو دیا‘
منموہن سنگھ اور جارج ڈبلیو بشجوہری معاہدہ
ہند امریکی جوہری معاہدے کےنشیب و فراز
ملائم سنگھ یادونئی صف بندیاں
ملائم سنگھ حکومت کے نئے سیاسی مسیحا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد