منموہن سنگھ فرانس کے دورے پر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ فرانس کے دو روزہ دورے پر ہیں جہاں وہ انڈیا-یورپی یونین سربراہی اجلاس میں حصہ لیں گے۔ یہ اجلاس فرانس کے شہر مارسے میں پیر کو منعقد ہورہا ہے۔ منگل کے روز منموہن سنگھ پیرس پہنچیں گے جہاں یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ وہ اور فرانسیسی صدر نکولا سرکوزی فرانس اور ہندوستان کے درمیان سوِل ایٹمی معاہدے پر دستخط کریں گے۔ امریکی کانگریس کے دارالنمائندگان نے سنیچر کو انڈیا-امریکہ ایٹمی معاہدے کو منظوری دیدی تھی جس کے بعد توقع کی جارہی ہے کہ امریکی سینیٹ بھی اس معاہدے کی چند دنوں کے اندر منظوری دے دے گا۔ پیرس میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق یورپی یونین اور فرانس دونوں ہی ہندوستان کے ساتھ تعلقات بڑھانے پر زور دے رہیں جس کی دو وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اس سے یورپی یونین اور فرانس کو ہندوستان کے ساتھ تجارت بڑھانے میں مدد ملی گی۔ جبکہ دوسری وجہ یہ کہ ہندوستان دنیا کے ایک غیرمستحکم علاقے میں کافی اہمیت رکھتا ہے۔
یورپی یونین کی یہ کوشش بھی ہے کہ گلوبل وارمِنگ یعنی ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کی کوششوں میں ہندوستان کو شامل کیا جاسکے گا۔ جبکہ ہندوستان کی جانب سے توقع ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ مارسے اجلاس کے دوران اپنے ملک کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنائے جانے کے لیے حمایت اکٹھا کریں گے۔ اس موضوع پر یورپی یونین کی حمایت اہم سمجھی جارہی ہے۔ منگل کے روز منموہن سنگھ فرانسیسی صدر نکولا سرکوزی اور وزیر اعظم فانسواں فیلوں سے پیرس میں مذاکرات کرنے والے ہیں۔ منموہن سنگھ کے ساتھ تاجروں کا ایک بڑا قافلہ بھی موجود گا۔ فرانس اور ہندوستان کے درمیان سِول ایٹمی تعاون کے معاہدے پر دستخط ہوجانے کے بعد ایٹمی توانائی کی فرانسیسی کمپنیوں کے لیے ہندوستان سے اربوں ڈالر کے معاہدہ ممکن ہونگیں۔ چونکہ ہندوستان کی معیشت تیزی سے بڑھ رہی ہے اس لیے منموہن سنگھ کی حکومت ایٹمی توانائی کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ اس میں امریکہ اور فرانس کی کمپنیوں کو تجارت کے اہم مواقع دکھائی دے رہے ہیں۔ اب تک ایٹمی توانائی کے شعبے میں ہندوستان کے لیے تجارت ناممکن تھی۔ لیکن حال ہی میں امریکہ اور ہندوستان کے درمیان طے پانے والے ایٹمی معاہدے کے ساتھ ہی یہ رکاوٹ ختم ہوگئی ہے کیونکہ اس معاہدے کے تحت ہندوستان نے اقوام متحدہ کے ایٹمی ادارے آئی اے ای اے کے ساتھ ایک سمجھوتہ کیا ہے جس کے تحت ہندوستان کے چودہ ایٹمی ریکٹرز عالمی نگرانی میں ہونگیں۔ |
اسی بارے میں معاہدہ ضوابط کے تحت: البرادعی01 August, 2008 | انڈیا انڈیا کو یورینیم فراہم کرنے سے انکار23 June, 2008 | انڈیا ایٹمی منصوبہ عالمی ادارے کو پیش10 July, 2008 | انڈیا ہند امریکہ معاہدہ کی منظوری متوقع01 August, 2008 | انڈیا بائیں محاذ کی ڈیل مخالف مہم 14 July, 2008 | انڈیا ہند- امریکہ جوہری معاہدے کا سفر06 September, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||