معاہدے کی منظوری پر سیاسی ردعمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمراں جماعت یو پی اے نے جوہری سازوسامان فراہم کرنے والے ممالک کے گروپ( این ایس جی) کی جانب سے ہند امریکہ جوہری معاہدے کی منظوری کو ایک تاریخی موقع قرار دیا ہے تو وہیں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے بعد ہندوستان نے جوہری تجربات کرنے کا حق ہمیشہ کے لیے کھو دیا ہے۔ اس کے علاوہ معاہدے کی سخت مخالف بائیں بازوں کی جماعتوں نے کہا ہے کہ این ایس جی کی منظوری کے باوجود ان کی جانب سے معاہدے کے مخالفت جاری رہے گی۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ نے معاہدے پر این ایسی جی کی منظوری کو ’ایک اہم اور دور رس نتائج کا حامل‘ فیصلہ بتایا ہے اور کہا ہے کہ اس معاہدے کو اس مرحلے تک پہنچانے میں امریکہ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔اس کے لیے انہوں نے امریکہ اور این ایسی جی کے ممبران ممالک کاشکریہ ادا کیا ہے۔ وہیں ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاہدے پر این ایسی جی کی منظوری کے لیے جوہری توانائی سے متعلق عالمی ادارے آئی اے ای اے کے سبھی ممبران کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
یو پے ای کی حمایتی سماج وادی پارٹی کے جنرل سیکرٹری امر سنگھ نے کہا ہے کہ اس معاہدے کے لیے وزیراعظم منموہن سنگھ مبارکباد کے حق دار ہیں اور معاہدہ ملک کے حق میں ہے اور یہی وجہ ہے کہ سماج وادی پارٹی کانگریس کے ساتھ ہے۔ تاہم حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر لیڈر یشونت سنہا کا کہنا تھا کہ معاہدے کے بعد ہندوستان نے مستقبل میں کبھی بھی جوہری تجربہ کرنے کا حق کھو دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر ہندوستان کروڑوں روپے نیوکلیئر ری ایکٹرز اور اس کا ایندھن خریدنے میں لگاتا ہے تو وہ تجربات ویسے بھی نہیں کر سکتا ہے۔ امریکہ یہ معاہدہ اس لیے کر رہا ہے کیونکہ اسے پتہ ہے کہ جوہری ری ایکٹر بیچنے کے لیے بھارت ایک اہم بازار ہے‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کانگریس پارٹی اس وقت یہ کہہ رہی ہے کہ اس معاہدے کے بعد جوہری حوالے سے ملک کی’عالمی تنہائی‘ ختم ہوگئی ہے تو اس کے لیے صرف اندراگاندھی ذمہ دار تھیں کیونکہ سنہ 1974 میں ان کے جوہری تجربے کے فیصلے کے بعد ہی ہندوستان پر پابندی عائد کی گئی تھی تو اس سے یہ صاف ظاہر ہے کہ کانگریس اپنے بنیادی اصولوں سے دور جا رہی ہے۔ ہند امریکہ سویلین جوہری معاہدے کے لیے این ایس جی ممالک سے منظوری حاصل کرنا ایک اہم اور مشکل مرحلہ تھا۔ اس منظوری کے بعد اب اس معاہدے کو اپنے آخری مرحلے کے لیے امریکی کانگریس میں پیش ہونا ہے۔ بین الاقوامی اور اندرونی سطح پر اس معاہدے کو کئی تنازعات سے ہو کر گزرنا پڑا۔ سنیچر کو ویانا میں پینتالیس ممالک کے سہ روزہ اجلاس میں امریکہ کی جانب سے ہندوستان کو توانائی کے لیے جوہری ٹیکنالوجی فروخت کرنے کے معاہدے کو منظور کر لیا گیا۔ حالانکہ یہ اجلاس دو روز کے لیے مقرر کیا گیا تھا لیکن بعض ممالک نے ہندوستان کی جانب سے جوہری عدم توسیع یعنی این پی ٹی کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے پر اعتراض ظاہر کیا تھا۔ ان ممالک میں نیدرلینڈ، آسٹریا، ناروے، سوٹزرلینڈ، آئر لینڈ اور چین شامل تھے۔ |
اسی بارے میں ’آئی اے ای اے سے منظوری تاریخ ساز‘02 August, 2008 | انڈیا بائیں محاذ کی ڈیل مخالف مہم 14 July, 2008 | انڈیا ’امریکی مشوروں کی ضرورت نہیں‘23 April, 2008 | انڈیا بھارت اور امریکہ کا جوہری معاہدہ27 July, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ: ہند امریکہ مذاکرات28 May, 2007 | انڈیا انڈیا،امریکہ کی جوہری شراکت03 March, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||