’آئی اے ای اے سے منظوری تاریخ ساز‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزيراعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے ہند-امریکہ جوہری معاہدہ سے متعلق سیف گارڈ ایگریمنٹ پر جوہری توانائي کے عالمی ادارے آئی اے ای اے سے منظوری ملنے کو تاریخ ساز قرار دیا ہے۔ جمعہ کو آئی اے ای اے نے ہند- امریکہ جوہری معاہدے سے متعلق سیف گارڈ ایگریمنٹ کو منظوری دی تھی۔ ہند-امریکہ جوہری معاہدے پر درعمل آمد کرنے کے لیے ہندوستان کو اپنی بائیس میں سے چودہ ایٹمی تنصیبات کی نگرانی کے لیے آئی اے ای اے سے ایک حفاظتی سمجھوتہ یعنی سیف گارڈ ایگریمنٹ کرنا ضروری تھا۔ اسی طرح ہندوستان کو اب نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رضامندی حاصل کرنی ضروری ہوگی۔ سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں جنوبی ایشیائی ممالک کی علاقائی تعاون کی تنظیم سارک کے سربراہی اجلاس ميں شرکت کے لیےگئے منموہن سنگھ نے کہا: ’یہ ہندوستان کے لیے ایک تاریخ ساز دن ہے اور میں بین الاقوامی برادری کا شکر گزار ہوں، خصوصی طور پر امریکہ اور اقوام متحدہ کی توانائي ایجنسی کے سربراہ (محمد البرادعی) کا جن کے سبب یہ سنگ میل کو حاصل کرنا ممکن ہو سکا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا: ’میں یہ سن کر کافی خوش ہوا کہ آئي اے ای اے بورڈ آف گورنرز نے خاص طور پر تیار کیے گئے سیف گارڈ ایگریمنٹ کو متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔‘ ادھر ہندوستان میں امریکی سفیر ڈیوڈ مِلفورڈ نے سیف گارڈ ایگریمنٹ کی منظوری کو ہند- امریکہ سوِل جوہری معاہدے کے عمل میں ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا: ’اب امریکہ نیو کلیئر سپلائرز گروپ یعنی این ایس جی کے ممالک سے ہندوستان کو جوہری تجارت میں خصوصی رعایت دلانے اور امریکی کانگریس سے سوِل سمجھوتے کو منظوری دلانے میں کوشش کرے گا۔‘ دوسری طرف آئی اے ای اے میں ہندوستان کی طرف سے سمجھوتے کی پیروی کر رہے ہندوستان ميں جوہری توانائی کمیشن کے سربراہ انل کاکودکر نے کہا کہ اب اگلا قدم نیوکلیئر سپلائرز گروپ سے سمجھوتے کو منظوری دلانا ہے۔ واضح رہے کہ اگست کے آخر میں ہندوستان کو پینتالیس رکن ممالک پر مشتمل نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی منظوری بھی چاہیے ہوگی اور امریکی کانگریس کی منظوری بھی چاہیے۔ انل کاکودکر کا کہنا تھا:’ہم سبھی ملکوں کے رابطے میں ہیں۔ کوشش ہے کہ بلا مشروط ہندوستان کو بین الاقوامی جوہری تجارت کرنے والے ملکوں کی برادی میں جگہ مل جائے۔‘ غور طلب بات ہے کہ ہندوستان نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے این پی ٹی پر دستخط نہیں کیے ہيں، اس لیے اسے این ایس جی سے خصوصی اجازت لینے کی ضرورت ہے۔ ہندوستان ميں تجزیہ کار آئی اے ای اے سے سیف گارڈ ایگریمنٹ کو منظوری ملنے کو ایک تاریخی کامیابی قرار دے رہے ہيں لیکن ابھی بھی وہ ہند-امریکہ معاہدے کے حتمی شکل اختیار کرنے کو آسان نہيں سمجھ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے خیال ميں این ایس جی سے منظوری لینے میں کافی مشقت کرنی ہوگی۔
واضح رہے کہ ہند-امریکہ جوہری معاہدہ ہندوستان کی قومی سیاست میں ایک متنازعہ معاملہ رہا ہے اور گزشتہ جولائی میں اس معاہدے کے سلسلے میں حکومت کو اعتماد کی تحریک لانی پڑی تھی کیوں کہ حکمراں اتحاد سے کمیونسٹ جماعتوں نے معاہدے کی مخالفت کے سبب حکومت سے حمایت واپس لے لی تھی۔ اعتماد کی تحریک حکومت نے جیت لی تھی۔ ہندوستان ميں معاہدے کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ہند-امریکہ جوہری معاہدے کی منظوری کے بعد امریکہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ معاہدے کے مکمل ہو جانے کے بعد ہندوستان غیرفوجی مقاصد کے لیے جوہری فضلے اور ٹیکنالوجی کی عالمی مارکیٹ میں شامل ہو سکے گا۔ اب تک ایٹمی دھماکے کرنے کی وجہ سے اس کے ایسا کرنے پر پابندی ہے۔ |
اسی بارے میں معاہدہ ضوابط کے تحت: البرادعی01 August, 2008 | انڈیا ایٹمی منصوبہ عالمی ادارے کو پیش10 July, 2008 | انڈیا ’ایٹمی ڈیل سلامتی کو خطرہ نہیں‘13 July, 2008 | انڈیا ’پہلےاعتماد کا ووٹ حاصل کريں گے‘ 08 July, 2008 | انڈیا ہند- امریکہ جوہری معاہدے کےاہم نکات08 July, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||