ایٹمی منصوبہ عالمی ادارے کو پیش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان نے اپنی غیر فوجی جوہری تنصیبات کی نگرانی کے منصوبے کو عالمی ایٹمی ادارے آئی اے ای اے کو سونپ دیا ہے۔ ہند امریکہ جوہری معاہدے کو عملی شکل دینے کے لیے ( آئی اے ای اے ) سے منظوری لینا ضروری ہے۔ اس معاہدے کی مخالفت میں بائیں بازو کی جماعتوں نے حکومت سے حمایت واپس لے لی ہے۔ امریکہ کی طرف سے ہندوستان پر اس بات کے لیے دباؤ ہے کہ وہ نومبر میں امریکی صدارتی انتخاب سے پہلے بش انتظامیہ کے ساتھ اس معاہدے پر دستخط کر دے۔ ہند امریکہ جوہری معاہدے کے حفاظتی منصوبے کی منظوری کے لیے بھارتی حکومت کے نمائندوں اور عالمی ایٹمی ادارے آئي اے ای اے کے بورڈز آف گورنرز کے درمیان میٹنگ ہونی ہے اور حکومت نے اس میٹنگ سے قبل حفاظت سے متعلق دستاویزات کو رکن ممالک کے حوالے کیا ہے۔ آئی اے ای کے پینتیس رکن ممالک اس دستاویز کا مطالعہ کریں گے اور پھر اس پر فیصلہ ہوگا۔ واشنگٹن میں آرمز ایسوسی ایشن کے ڈیرل کیمبل کا کہنا ہے کہ اس مسودے میں بعض ایسے نکات ہیں جس سے عالمی اداروں کی طرف سے بھارت کے جوہری پروگرام کی نگرانی محدود ہوجاتی ہے۔’اس سلسلے میں ہندوستان کو کئی وضاحتیں کرنی ہوں گی۔‘ اس دوران بائیں محاذ سمیت سبھی حزب اختلاف کی جماعتوں نے حکومت پر اس بات کے لیے سخت نکتہ چینی کی ہے کہ اس نے پہلے اس دستاویز کو خفیہ کہہ کر عام کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اس اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی وہ انٹرنیٹ پر عوام کے لیے موجود ہے۔
مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے سینیئر رہنما پرکاش کرات نے کہا ہے کہ ’حکومت کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہیے کہ آخر اس نے ایک عام دستاویز کو خفیہ کیوں بتایا تھا، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اس معاملے کو قوم کو اعتماد لیے بغیر ہی خفیہ طور پر آگے قدم بڑھاتی رہی ہے۔‘ اس سے قبل وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’دستاویز خفیہ نوعیت کی ہے اس لیے اسے افشا نہیں کیا جاسکتا۔‘ بائیں محاذ کے سینیئر رہنما اے بی بردھن نے کہا کہ ’وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے جو پوزیشن اختیار کی تھی اس کا دفاع نہیں کیا جا سکتا‘۔ اس دوران وزیراعظم منموہن سنگھ بائیں محاذ کی طرف سے حکومت سے حمایت واپس لینے کے بعد کی صورت حال پر صدر پرتیبھا پاٹل سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ جی ایٹ کانفرنس سے واپس دلی پہنچے ہیں۔ امکان ہے کہ صدر وزیر اعظم سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کو کہیں گی۔ اس ملاقات کے بعد ہی حکومت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے پارلیمان کا خصوصی اجلاس کب طلب کر تی ہے۔ صدر سے ملاقات سے قبل وزیر اعظم اپنی کابینہ کے ارکان سے بھی ملاقات کریں گے۔ دلی میں فی الوقت جوہری معاہدے کے حوالے سے زبردست سیاسی گہما گہمی کا ماحول ہے اور ایک بار پھر اس بارے میں اپنے متضاد بیانات کے سبب حکومت تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔ | اسی بارے میں کمیونسٹوں نے صدر سے ملاقات کی09 July, 2008 | انڈیا ہندوستان: نئی صف بندی کا آغاز08 July, 2008 | انڈیا بایاں بازو حکومت سے الگ ہوگیا08 July, 2008 | انڈیا ’پہلےاعتماد کا ووٹ حاصل کريں گے‘ 08 July, 2008 | انڈیا کیا بائیں محاذ سے غلطی سرزد ہوئی ہے؟08 July, 2008 | انڈیا اڈوانی: حکومت اکثریت ثابت کرے05 July, 2008 | انڈیا جوہری معاہدے پر بحث کا مطالبہ03 July, 2008 | انڈیا ڈیل یا نو ڈ یل: دلی میں اہم میٹنگ25 June, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||