جوہری معاہدے پر بحث کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں تیسرے محاذ یعنی متحدہ قومی ترقی پسند اتحاد (یو این پی اے ) کا کہنا ہے کہ ہند جوہری معاہدے پر اس میں اتفاق ہے اور یہ کہ معاہدے پر قومی بحث ہونی چاہیے۔ قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں کہ جوہری معاہدے پر اگر مرکز کی حکومت اقلیت ميں آتی ہے تو تیسرا محاذ حکومت کو اپنی حمایت دینے کا اعلان کرسکتا ہے۔ تاہم جمعرات کی میٹنگ سے تیسرا محاذ کوئی بھی واضح اشارہ نہيں دے سکا۔ یو این پی اے کا کہنا ہے کہ وہ اس بارے میں اپنا فیصلہ تب تک نہیں سامنے لائے گا جب تک جوہری معاہدے پر قومی سطح پر بحث نہیں ہوتی ہے اور بایاں محاذ حمایت واپسی کا اعلان نہیں کردیتا ہے۔ دلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سماجوادی پارٹی کے جنرل سیکریٹری اور یو این پی اے کے ترجمان امر سنگھ نے کہا ہے کہ تیسرا محاذ ہند جوہری معاہدے کے معاملے پر ایک ساتھ ہے اوریو این پی اے کے سبھی اتحادی آپس میں بات چیت کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہيں کہ وہ ملک کے کسی اعلی سائنسداں سے معاہدے کی باریکیوں پر صلاح مشورہ کریں گے اور اس کے بعد وہ چاہیں گے کہ معاہدے پر قومی بحث ہو۔ امر سنگھ نے کہا’ جوہری معاہدے سے متعلق جو ہمارے سوال تھے اس پر وزیر اعظم منموہن سنگھ کا جواب آگیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم معاہدے کے سبھی نکات پر اعلی سائنسداں سے صلاح مشورہ کریں۔ سائنسداں کا انتخاب ملائم سنگھ یادو کریں گے۔‘ امر سنگھ کا مزید کہنا تھا کہ وہ حکومت سے مہنگائی، تیل کی قیمتوں میں اضافے اور کسانوں کے معاملے پر شدید اختلافات رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اپنے اس موقف پر آج بھی اٹل ہیں جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ملک کو فرقہ وارانہ طاقتوں کے ہاتھوں میں نہیں دینا چاہتے ہیں اور جہاں تک کانگریس کا سوال ہے وہ اسے کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھانے دیں گے جو ملک کے حق میں نہیں ہے۔
کانگریس کو باہر سے حمایت دینے والا لیفٹ فرنٹ پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ حکومت اگر جوہری معاہدے پر کوئی بھی پیش رفت کرتی ہے تو وہ اس سے اپنی حمایت واپس لے لیں گے۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ 6 جولائی کو جی ایٹ ممالک کی میٹنگ کے لیے جارہے ہیں جہاں امریکی صدر بش سے ان کی ملاقات متوقع ہے۔ اور اس ملاقات کے دوران بات چیت کا محور جوہری معاہدہ ہوگا۔ یو این پی کی اتحادی جماعت انڈ ین نیشنل لوک دل کے سربراہ اوم پرکاش چوٹالا کا کہنا تھا کہ وہ حکومت کو اپنی حمایت دیں گے یا نہیں اس کا فیصلہ چھ جولائی سے پہلے نہیں ہوگا۔’ حکومت کو حمایت دینے کا فیصلہ چھ جولائی سے پہلے کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا یہ آپ ہم سے لکھوا لیجیے۔ جوہری معاہدے پر قومی بحث ہونے کے بعد ہی حمایت کی بات کی جائے گی۔‘ مبصرین کی رائے ميں یواین پی اے اس بات کا اتنظار کررہا ہے کہ بائیں محاذ حکومت سے اپنی حمایت کب واپس لیتا ہے اور اسی اعلان کے بعد وہ اپنے سیاسی مفادات کا خیال کرتے ہوئے حکومت کو حمایت دینے کا اعلان کر سکتا ہے۔ ابھی کانگریس کی جانب سے معاہدے پر آئندہ پیش رفت سے متعلق کوئی بیان نہیں آیا۔ لیکن اگر وہ معاہدے پر اٹل رہنا چاہتی ہے تواسے موقف جلد ہی واضح کرنا ہوگا اور اس کے بعد ہی بائیں محاذ اپنا فیصلہ سنائے گا اور پھر سب کی نظریں تیسرے محاذ پر ہونگی کہ وہ حکومت کو اپنی حمایت دیتا ہے یا نہیں۔ | اسی بارے میں ڈیل یا نو ڈ یل: دلی میں اہم میٹنگ25 June, 2008 | انڈیا جوہری معاہدہ : حکومت پردباؤ24 June, 2008 | انڈیا پرنب مکھرجی امریکہ کے دورے پر23 March, 2008 | انڈیا جوہری معاہدہ: ’وقت بہت کم ہے‘06 March, 2008 | انڈیا ’جوہری معاہدے پر نظرثانی کرینگے‘28 November, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پر اہم مذاکرات21 November, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، امریکہ کی ضرورت 21 November, 2007 | انڈیا امریکہ جوہری ڈیل کےاطلاق کا خواہاں30 October, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||