جوہری معاہدہ : حکومت پردباؤ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور امریکہ کے درمیان جوہری معاہدے پر حکمراں جماعت یونائیٹیڈ پروگرسیو اتحاد یعنی ’یو پی اے‘ اور اس کے اتحادی بائیں محاذ کے درمیان معاہدے سے متعلق اختلافات کو دور کرنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ اس کے لیے یو پی اے کے لیڈروں کی ملاقاتوں کا دور جاری ہے اور کئی اعلی رہنماؤں نے یو پی اے کی سربراہ سونیا گاندھی سے بھی ملاقات کی ہے۔ ایک طرف جہاں یو پی اے سرکار جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے سے بات چیت کے آخری مرحلے میں حصہ لے کر بھارت کا موقف واضح کرنا چاہتی ہے وہیں اس کی اتحادی بائیں بازوں کی جماعتیں جوہری معاہدے پر مخالفت کر رہی ہیں۔
بائیں محاذ نے ایک بار پھر دہرایا ہے کہ اگر حکومت آئی ای اے ای اے سے مزید بات چیت کرتی ہے تو وہ حکومت سے اپنی حمایت واپس لے لی گی۔ واضح رہے کہ جوہری معاہدے پر بات چیت کے لیے یو پی ای اور بائیں محاذ کی کمیٹی کا ایک اجلاس 25 جون کو ہونا ہے۔ اس دوران نیشنلسٹ کانگریس کے شرد پوار، راشٹریہ جنتا دل کے لالو پرساد یادو اور لوک جن شکتی کے رام ولاس پاسوان نے سونیا گاندھی سے ملاقات کی ہے۔ لالو پرساد یادو نے کہا ہے ’ یہ وقت انتخابات کا نہیں ہے، بایاں محاذ اور ہم ایک ساتھ ہیں۔ پہلے مہنگائی کو ختم کرنا ہے۔ ملک کے لیے توانائی بھی بہت ضروری ہے۔ ‘ رام ولاس پاسوان کا کہنا تھا ’سرکار نہیں گر رہی ہے۔ ایسا کوئی بھی مسئلہ نہیں ہے جس کا حل بات چیت کے ذریعے ممکن نہیں ہے۔‘ ادھر حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے سینئر رہنما لال کرشن آڈوانی نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی جوہری معاہدے کے حامی ہیں لیکن اس شرط پر کہ امریکہ بھارت کے نیوکلئیر ٹیسٹ کرنے پر پابندی نہ لگائے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ان کی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو وہ معاہدے پر دوبارہ بات چیت کرنا چاہیں گے۔ |
اسی بارے میں ہند۔امریکہ جوہری معاہدہ، تعطل برقرار07 May, 2008 | انڈیا نیوکلیئر معاہدہ، دلی میں اہم اجلاس22 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پرمشکلات: منموہن16 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پر مذاکرات بےنتیجہ 09 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، سیاسی تعطل برقرار19 September, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ: کمیٹی کا اجلاس11 September, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||