ہند۔امریکہ جوہری معاہدہ، تعطل برقرار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں ہند امریکہ جوہری معاہدے کے تنازعہ پر حکومت اور اس کی اتحادی کمیونسٹ جماعتوں کے درمیان بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ اس معاہدے پر مئی کے آخر میں دوبارہ بات چیت ہوگی۔ لیکن بظاہر یہ معاہدہ اب تکمیل تک پہنچتا ہوا نہیں لگ رہا ہے۔ حکمران اتحاد میں شامل بائیں بازو کی جماعتیں ابتداء سے ہی امریکہ سے جوہری معاہدے کی مخالفت کر رہی ہیں۔ کل رات بھی حکمراں اتحاد کے رہنماؤں سے دو گھنٹے کی طویل بات چیت کے بعد بھی کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ کمیونسٹ جماعتوں نےحکومت سے وضاحت طلب کی ہے کہ کیا معاہدے کے تحت جوہری ایندھن کی سپلائی ہر حال میں جاری رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی جاننا چاہا ہے کہ کیا دیسی ٹیکنالوجی سے بنے ہوئے جوہری ری ایکٹر بھی بین الاقوامی معائنے کے دائرے میں آئیں گے۔ کمیونسٹ رہنماؤں نے امریکہ کے ہا ئڈ ایکٹ کے بارے میں خاص طور سے جاننا چاہا ہے کہ کیا جوہرے معاہدے سے امریکہ کا داخلی قانون ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور سلامتی کے امور پر اثر انداز ہر سکتا ہے۔ وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں کو بتایا کہ حکومت اور کمیونسٹ رہنماؤں کے درمیان 28 مئی کو ایک اور میٹنگ ہو گی۔ ہندوستان جوہری ایندھن سپلائی کرنے والے ملکوں کی منظوری حاصل کرنے کے لیے جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے سے مذاکرات کر رہا ہے اور کل کی میٹنگ میں کیمنسٹوں کے سامنے حکومت نے یہ تجویز رکھی تھی وہ مذاکرات کے لیے رضامند ہو جائیں لیکن وہ مزید وضاحتوں کے بغیر جوہری معاہدے کی سمت مزید پیش قدمی کی مخالفت کر رہے ہیں ۔ وہ آئی اے ای اے سے معاہدے کا متن بھی دیکھنا چاہتے تھے۔ لیکن حکومت نے معاہدے کی نقل دکھانے سے یہ کہ کر انکار کر دیا کہ اس سے بات چیت کے ضوابط کی خلاف ورزی ہوگی۔ ہندوستان کو آئی اے ای اے سے اپنے سویل جوہری ری ایکٹروں کے معائنے کا معاہدہ مئی کے اختتام تک مکمل کر لینا ہے۔ تاکہ معاہدے کا مسودہ جون کے آخر یا جولائی کے کی ابتدا میں امریکی کانگریس کی منظوری کے لیےدیا جا سکے۔اگر جولائی کے پہلے ہفتے تک یہ عمل مکمل نہیں ہو ا تو یہ معاہدہ بش انتظامیہ کے باقی بچے ہوئے دنوں میں تکمیل کو نہیں پہنچ سکے گا۔ حزب اختلاف کی جماعت بی جے پی اور حکومت کی اتحادی کمیونسٹ جماعتیں مجوزہ ہند امریکہ جوہری معاہدے کی یہ کہ کرمخالفت کر رہی ہیں کہ اس سے ملک کا جوہری پروگرام اور خارجہ پالیسی امریکہ کے تابع ہو کر رہ جائےگی۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ آئندہ برس پارلیمانی انتخابات ہونے والے ہیں اور زبردست مہنگائی، عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے اور غذائی اشیا کی قلت کے سبب حکمراں کانگریس کمیونسٹوں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔ اسے یہ اندیشہ ہے کہ آئندہ انتخابات میں کہیں اسے دوبارہ ان کی ضرورت نہ پڑ جائے۔ حکومت نے پہلے بھی اشارے دیئے ہیں کہ وہ جوہری معاہدے کے لیے حکومت قربان نہیں کرنا چاہتی۔ |
اسی بارے میں معاہدہ ختم ہو سکتا ہے:امریکہ09 February, 2008 | انڈیا جوہری تعاون کیلیے ابھی انتظار:سرکوزی25 January, 2008 | انڈیا امریکہ جوہری ڈیل کےاطلاق کا خواہاں30 October, 2007 | انڈیا ’جوہری معاہدے پر نظرثانی کرینگے‘28 November, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، بایاں محاذ کا نرم رویہ 16 November, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پر مذاکرات 13 January, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||