جوہری تعاون کیلیے ابھی انتظار:سرکوزی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کا کہنا ہے کہ وہ بھارت سے جوہری ٹیکنالوجی کی فراہمی اور ری ایکٹرز کے قیام میں کسی طرح کا اشتراک صرف اسی صورت میں کرے گا جب ہندوستان اپنے سول ری ایکٹرز کی نگرانی کے حوالے سے جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے سے معاہدہ کر لے۔ یہ بات دلی میں غیر فوجی جوہری پروگرام میں تعاون کے حوالے سے فرانس کے صدر نکولا سرکوزی اور ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ کے درمیان مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر سرکوزی نے کہی۔ فرانسیسی صدر نے کہا کہ اس حوالے سے ہندوستان کو انتظار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہندوستان عالمی ایٹمی ادارے سے جیسے ہی معاہدہ مکمل کرتا ہے ہم اسی وقت عملی مرحلے میں داخل ہو جائیں گے‘۔ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کا کہنا تھا کہ یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بین الاقوامی مذاکرات میں کچھ وقت لگتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ایٹمی ادارے سے ہماری بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے اور ہمیں پوری امید ہے کہ یہ بات چیت کسی تاخیر کے بغیر کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچے گی‘۔ بات چیت کے بعد ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’ہند۔فرانس مجوزہ معاہدہ جوہری توانائی کے شعبے میں بنیادی اور عملی تحقیق سے لے کر جوہری ری ایکٹرز کے قیام، ایندھن کی فراہمی اور اس کے انتظام تک سبھی پہلوؤں میں باہمی اشتراک کی بنیاد بنے گا‘۔
منموہن سنگھ نے کہا کہ دونوں ممالک نے محض خریدوفروخت کے رشتے سے آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔’ ہم زیادہ سے زیادہ مشترکہ تحقیق و ترقی کے منصوبوں، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور وسیع تر دفاعی تبادلوں پر اپنی توجہ مرکوز کریں گے‘۔ جمعہ کو بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے اقتصادی اور سفارتی تعلقات کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر بات کی۔ دونوں ملکوں نے آئندہ پانچ برسوں میں باہمی تجارت کو 1012 ارب یورو تک پہنچانے کا ہدف طے کیا ہے۔ بھارت اور فرانس نے جمعہ کو پانچ معاہدوں پر بھی دستخط کیے۔ ان میں ایک معاہدہ فرانس میں ایک ایٹمی ری ایکٹر کی تعمیر سے متعلق ہے جبکہ دیگر معاہدوں میں خفیہ دفاعی معلومات کو افشا ہونے سے روکنے میں مدد کرنا ، سزا یافتہ قیدیوں کا تبادلہ، ترقی اور اشتراک اور نیرو سائنس کی ایک لیبارٹری کے قیام کا معاہدہ شامل ہے۔ فرانس کے صدر ہندوستان کے دو روزہ دورے پر ہیں اور وہ سنیچر کے روز یوم جمہوریہ کی تقریب میں مہمان خصوصی بھی ہوں گے۔ اس دورے میں فرانس کی دفاعی کمپنیوں کو میراج جنگی تیاریوں کی جدید کاری کا تقریباً دو ارب ڈالر مالیت کا ایک منصوبہ حاصل ہوسکتا ہے۔ ہندوستان اپنی فضائیہ کے لیے سوا سو نئے جنگی طیاروں کا ٹینڈر جاری کیا ہے اور فرانسسی کمپنیاں اس میں بھی بڑے پیمانے پر حصہ لے رہی ہیں۔ |
اسی بارے میں ’افغانستان کوطالبان سے خطرہ‘22 December, 2007 | آس پاس سرکوزی ڈیل انکوائری کےحامی03 August, 2007 | آس پاس فرانس: سرکوزی کی جماعت جیت گئی18 June, 2007 | آس پاس فرانس کے نئے وزیراعظم تعینات18 May, 2007 | آس پاس سرکوزی کی قیادت، فرانس کا نیا روپ07 May, 2007 | آس پاس فرانس: انتخابی مہم کا آخری مرحلہ20 April, 2007 | آس پاس فرانس: سارکوزی کا نیا نظریہ 03 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||