BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فرانس کے نئے وزیراعظم تعینات
فرانکوئس فِلون صدر سرکوزی کی انتخابی مہم کے سربراہ تھے
فرانس کے نومنتخب صدر نکولس سرکوزی کے قریبی ساتھی فرانکوئس فِلون کو ملک کا وزیر اعظم تعینات کر دیا گیا ہے۔

قدرے قدامت پسند ترپن سالہ مسٹر فلون نے صدر سرکوزی کی کامیاب انتخابی مہم میں اہم کردار ادا کیا تھا۔


توقع کی جا رہی ہے کہ وہ صدر سرکوزی کے ملازمتوں اور روزگار سے متعلق قوانین میں اصلاحات کے منصوبے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔

بدھ کو ژاک شیراک کی جگہ لینے والے سرکوزی اپنی حکومت کے دیگر ارکان کے ناموں کا اعلان جمعہ کو کریں گے۔ ان کا وعدہ ہے کہ وہ وزراء کی تعداد پہلے سے نصف یعنی پندرہ کریں گے اور ان میں سے نصف خواتین ہوں گی۔

وزارت عظمیٰ سے فارغ ہونے والے ڈومینیک ولیپاں نے منگل کو استعفی دینے کے بعد جمعرات کو نئے وزیراعظم کا باقاعدہ استقبال کیا اور ایک تقریب میں قلمدان انکے حوالے کیا۔

جب نئے وزیر اعظم اپنی سرکاری رہائش گاہ پہنچے تو ان کے اعزاز میں روایت کے مطابق ایک تقریب ہوئی جس میں گارڈ نے سلامی دی اور وہ سرخ قالین پر چلتے ہوئے اپنی نئی رہائشگاہ میں داخل ہوئے۔

تقریب کے دوران انہوں نے کہا: ’ میں ہر ایک کی بات سنوں گا کیونکہ ایک پُرحرکت فرانس کو ہر ایک کی ضرورت ہے۔‘

اسکے بعد سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم ڈامینیک ڈی ولیپاں سرکاری رہائشگاہ سے باہر آئے اور نئے وزیراعظم کو خوش آمدید کہا۔ ڈامینیک ڈی ولیپاں نے کہا: „ مسٹر فلون میں تمام خوبیاں موجود ہیں جو اس ملک کی خدمت کے لیے درکار ہیں۔‘

مسٹر فلون دو ہزار دو اور دو ہزار چار کے درمیان سماجی بہبود کے وزیر تھے اور ملک گیر احتجاج کے باوجود پنشن سے متعلق قانون میں ترامیم کرنے میں کامیاب رہے تھے۔ اسکے علاوہ وہ گزشتہ حکومت میں مختلف عہدوں پر کام کرتے رہے لیکن پھر دو ہزار پانچ میں وہ ژاک شیراک کی انتظامیہ سے الگ ہو کر نکولس سرکوزی سے منسلک ہو گئے۔

اسی ہفتے اپنے افتتاحی خطاب میں صدر نکولس سرکوزی نے کہا تھا کہ فرانس کو جس قدر خطرہ جمود سے آج ہے ایسا پہلے کبھی نہیں تھا جسے توڑنے کی ضرورت ہے تا کہ تیزی سے بدلتی دنیا کے ساتھ چلا جا سکے۔

افتتاحی خطاب کے تھوڑی ہی دیر بعد صدر سرکوزی اور وزیر اعظم جوگر پہن کر ورزش کے لیے چلے گئے تھے۔

پیرس میں بی بی سی کی نامہ نگار کیرولائن وائٹ کا کہنا ہے کہ یہ فرانس جیسے روائتی ملک کے لیے بالکل نیا انداز ہے کیونکہ ماضی کے سربراہان مملکت اور اہم عہدیدار عوام سے دور رہے ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق لگتا ہے کہ صدر اور وزیر اعظم اس ملک کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے بارے میں سنجیدہ ہیں اور اسکے لیے خود مثال بننے کے لیے بھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد