فرانس: انتخابی مہم کا آخری مرحلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانس کے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے نتائج سامنے آتے ہی اب آخری اور فیصلہ کن مرحلے کے لیے انتخابی مہم شروع ہوگئی ہے۔ چھ مئی کو ہونے والے اِس مرحلے میں قدامت پسند امیدوار نِکولا سرکوزی اور حزب اختلاف کی سوشلسٹ پارٹی کی نامزد امیدوار سیغولین رویال مدمقابل ہونگے۔ ایک طرف چھ مئی کو ہونے والے انتخابات کے لیےانتخابی مہم کے آغاز پر دائیں بازو کے قدامت پسند امیدوار نکولس سرکوزی آج مشرقی شہر دی ژوں میں اپنے حامیوں سے خطاب کریں گے تو دوسری جانب سیغولین رویال جنوب مشرق میں وِلانس میں تقریر کی تیاری کررہی ہیں۔ پہلے مرحلے میں تیس فیصد ووٹ حاصل کرنے والے باون سالہ مسٹر سرکوزی کو فی الحال سبقت حاصل ہے جبکہ سوشلسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والی خاتون امیدوار چھبیس فیصد ووٹ حاصل کرکے ان سے کچھ ہی پیچھے ہیں۔ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ سے چار دن پہلے یعنی دو مئی کو دونوں امیدواروں کے درمیان ٹیلی وژن پر مباحثہ بھی ہوگا۔
اتوار کی رات پہلے مرحلے کے نتائج آنے کے بعد دائیں بازو کے امیدوار نکولا سرکوزی نےاپنے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا’اتوار کی شام فرانس کے عوام بولے ہیں اور بہت واضح الفاظ میں بولے ہیں۔ کئی انتخابات کے بعد ان کی یہ کیفیت قابلِ غور ہے۔ صدارتی انتخابات کا یہ پہلا مرحلہ جمہوریت کی فتح ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں ووٹ ڈال کر فرانسیسی عوام نےثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی اور سے اپنے فیصلے نہیں کروانا چاہتے‘۔ دوسری جانب مسٹر سرکوزی سے ووٹوں میں محض چار فیصد پیچھے رہنے والی سوشلسٹ امیدوار سیغولین رویال نے اپنے حامیوں سے مزید کام کرنے کی درخواست کی۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم پر اب ایک بھاری ذمہ داری ہے۔ کامیاب ہو کر ایک تبدیلی لانے کی ذمہ داری، تا کہ نئے فرانس کی تعمیر شروع ہو سکے۔اس لیے میری آپ سے درخواست ہے کہ سرگرم ہو جائیں اور آگے بڑھتے جائیں‘۔ مسٹر سرکوزی پیر کی صبح پیرس میں اپنے مشیروں سے ملے۔ اُنہیں یقین تو ہے کہ وہ اپنی حریف سیغولین رویال کو ہرا دیں گے لیکن وہ جانتے ہیں کہ سخت گیر رویے کی وجہ سے وہ کچھ ووٹروں میں نامقبول ہیں۔ لہذا اگلے دو ہفتوں کے دوران اُنکی کوشش ہوگی کہ وہ میانہ روی کا لہجہ اپناتے ہوئے ایسے ووٹروں کو دوبارہ اپنی جانب لے آئیں۔
دوسری جانب سیغولین رویال نے اب تک اپنے نرم رویے اور شخصیت کا استعمال کرتے ہوئے فرانسیسی عوام کی ایک بڑی تعداد کے دل جیتے ہیں لیکن اب اُنہیں ثابت کرنا ہوگا ہے اُن کی پالیسیاں واضح اور قابل عمل ہیں اور یہ کہ اُن کی گرفت معاشی اور خارجہ امور کے معاملات پر بھی مضبوط ہے۔ اِن دونوں امیدواروں کو ایک ایسا لائحہ عمل بھی وضع کرنا ہوگا جس کے تحت وہ پہلے مرحلے میں پیچھے رہ جانے والے امیدوار فرانسوا بائیرو کے ووٹ حاصل کرسکیں۔ فرانسوا بائیرو نے تا حال اپنے حامیوں کو دونوں میں کسی کی بھی حمایت کرنے کے لیے نہیں کہا۔ | اسی بارے میں فرانس: انتخابی مہم کا آخری مرحلہ20 April, 2007 | آس پاس فرانس: مسلمان سلامتی کیلیے خطرہ11 November, 2006 | آس پاس فرانس: سارکوزی کا نیا نظریہ 03 September, 2006 | آس پاس فرانس: متنازعہ قانون منسوخ10 April, 2006 | آس پاس فرانس میں سخت امیگریشن قوانین17 June, 2006 | آس پاس فرانس: خاتون صدارتی امیدوار 30 September, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||