فرانس میں سخت امیگریشن قوانین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فرانسیسی پارلیمان کے ایوان بالا نے امیگریشن سے متعلق ایک نیا مگر سخت قانون منظور کرلیا ہے۔ اس قانون کے تحت فنی مہارت نہ رکھنے والے افراد کے لیئے فرانس میں بسنا انتہائی مشکل ہوجائے گا جبکہ غیر قانونی تارکین وطن دس برس رہنے کے بعد ملک میں رہنے کا اپنا حق کھو دیں گے۔ وزیر داخلہ نکولس سرکوزی، جنہوں نے اس قانون کا مسودہ تیار کیا تھا، کہتے ہیں کہ یہ قانون فرانس کو دیگر ممالک کے برابر لا کھڑا کرے گا۔ تنقید کاروں کاکہنا ہے کہ یہ قانون نسلی امتیاز پر مبنی ہے۔ انہوں نے سرکوزی پر دائیں بازو کی حمایت کا الزام لگایا۔ نکولس سرکوزی کو اگلے برس کا اہم صدارتی امیدوار سمجھا جارہا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ فرانس کو اپنی امیگریشن کے رحم و کرم پر ہونے کے بجائے اسے اپنے قابو میں کرنا چاہیئے۔
نئے قانون کی ایک شق یہ بھی ہے کہ یورپی یونین سے باہر کے ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک معاہدے پر دستخط کرنا ہوں گے جس کے تحت انہیں فرانسیسی زبان سیکھنے کے ساتھ ساتھ جمہوریہ فرانس کے اصول و قواعد کا احترام کرنا ہوگا۔ نئے قانون کے نفاذ سے فرانس میں رہنے والے غیر ملکی تارکین وطن کو اپنے خاندان کے افراد کو اپنے پاس بلانا نہایت مشکل ہوجائے گا۔ سرکوزی کا کہنا ہے کہ فرانس کو غیر ممالک سے آنے والے افراد میں سے ان کو چننا ہوگا جنہیں فرانس بہتر سمجھے گا۔ فرانس میں بیشتر غیر ملکی وہ افراد ہیں جو اس کی سابق افریقی نو آبادیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس قانون کے خلاف فرانس میں بسنے والے تارکین وطن کے علاوہ دیگر کئی ممالک نے بھی تنقید کی ہے۔ | اسی بارے میں امیگریشن بِل پر اتفاق کی امید12 May, 2006 | آس پاس بش کے امیگریشن پروگرام پر اختلاف16 May, 2006 | آس پاس فرانس: امیگریشن قانون منظور17 May, 2006 | آس پاس ’اب ہمارا تو یہی وطن ہے‘18 May, 2006 | آس پاس کینیڈا: ملزمان کی عدالت میں پیشی07 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||